گیس چوری کے خلا ف کریک ڈائون جاری، ایک گرفتار، 1160 کنکشن منقطع

گیس چوری کے خلا ف کریک ڈائون جاری، ایک گرفتار، 1160 کنکشن منقطع

کراچی: سوئی سدرن گیس کمپنی اپنے فرنچائز صوبوں سندھ اور بلوچستان میں گیس چوری کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے۔ کراچی اور دیگر علاقوں میں گیس چوری کے خلاف ایک وسیع کریک ڈاؤن مہم میں SS&CGTO کے ساتھ CRD تھیفٹ سیکشن، ڈسٹری بیوشن ڈیپارٹمنٹ، SSGC پولیس اور مقامی پولیس نے کراچی ریجن میں مختلف مقامات پر متعدد چھاپے مارے.

واٹر ہائیڈرینٹ فیکٹری، سعید آباد، بلدیہ، کراچی پر چھاپہ مارا گیا، جہاں مجرم  ہیوی گیس جنریٹر چلانے کے لیے کمپنی کی مین ڈسٹری بیوشن لائن سے براہ راست گیس چوری کر رہا تھا۔ مجرم رحیم اللہ ولد محمد عمر خان کو موقع پر گرفتار کر کے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی۔

رند گوٹھ، اسکیم 33، کراچی میں ایک اور چھاپے میں ٹیم نے SSGC کی مین ڈسٹری بیوشن لائن سے جانے والے ایک زیر زمین کنکشن کا پتہ لگایا۔ یہ غیر قانونی کنکشن 250 گھرانوں کو گیس سپلائی کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، ملزمان  40,000 روپے بطور پیشگی ادائیگی اور 1,500 روپے  ماہانہ بنیادوں پروصول کررہے تھے۔ اس جرم میں ملوث چاند زیب خان ولد خاقان خان، ولی جان ولد میر احمد خان اور ملک داد چانڈیو ولد گل بہار چانڈیو کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔

گلشن معظم سوسائٹی، بن قاسم، کراچی کا سروے کرنے کے بعد ٹیم کو ایک اور زیر زمین غیر قانونی کنکشن ملا جو تقریباً 150 گھروں کو گیس سپلائی کر رہا تھا۔ ملزمان 50,000 روپے بطور پیشگی ادائیگی اور 2,500 روپے  ماہانہ بنیادوں پروصول کررہے تھے۔ ایف آئی آر مسرور علی ولد محمد نواز سیال اور غلام فرید ولد جمعہ خان کے خلاف درج کر لی گئی ہے۔ ایک اور چھاپے میں چشمہ گوٹھ، ابراہیم حیدری، کراچی میں زیر زمین گیس چوری پکڑی گئی جو 60 گھروں کو گیس فراہم کر رہی تھی۔ ملزمان 40,000  روپے بطور پیشگی ادائیگی اور 2,000 روپے ماہانہ ادائیگی کے طور پر وصول کررہے تھے۔ ایف آئی آر ندیم بلوچ ولد علی شیر، آغا سید ضیاء الدین ولد حاجی بدر دین، کمال ولد علی شیر اور نسیم گل ولد وحید گل کے خلاف درج کر لی گئی۔

دریں اثنا، گوٹھ وسند خان (کلمتی چوک)، سیکٹر 30/C, 30/F, 30/D شاہ لطیف ٹاؤن، کراچی میں ایک بڑا چھاپہ مارا گیا جہاں SSGC کی مین ڈسٹری بیوشن لائن سے منسلک زیر زمین کنکشن کے ذریعے گیس چوری کی جا رہی تھی۔ تقریباً 700 مکانات کو گیس فراہم کی جا رہی تھی۔ ان سے 35000 روپے پیشگی ادائیگی جبکہ 2000 روپے ماہانہ بنیاد پر وصول کیے جارہے تھے۔ ایف آئی آر تین مجرموں کے خلاف درج کی گئی،جن میں اللہ وحدایا یا اللہ وسایا، جاوید عباسی، اور دل جان مروت شامل ہیں۔

گیس چوری کے لیے استعمال ہونے والے تمام آلات کو موقع پر ہی ہٹا دیا گیا اور اس گھناؤنے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف دعوے کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ گیس چوری کمیونٹی کے خلاف جرم ہے اور SSGC اس غیر اخلاقی فعل میں ملوث تمام افراد کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھے گا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں