بریگیڈیئر (ر) سید کرار حسین عابدی کی تصنیف ”نقل مکانیاں اور بے سروسامانیاں۔کب سے کب تک“ کی تقریب رونمائی
کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے بریگیڈیئر (ر) سید کرار حسین عابدی کی تصنیف ”نقل مکانیاں اور بے سروسامانیاں۔کب سے کب تک“ کی تقریب رونمائی حسینہ معین ہال ،احمد شاہ بلڈنگ میں کی گئی جس میں گورنر سندھ کے مشیر اور وفاقی سیکریٹری سید طارق مصطفی نے مہمان خصوصی گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی نمائندگی کی۔
تقریب میں ایمبسیڈر جمیل احمد خان، بریگیڈیئر یعقوب اعوان، ڈائریکٹر اسپورٹس سید حبیب، محمد عمر خان، بریگیڈیئر (ر) سید کرار حسین عابدی ، آرٹس کونسل کے ایڈمن ڈائریکٹر شکیل خان اور منصور ساحر و دیگر نے اظہارِ خیال کیا۔ نظامت کے فرائض آغا شیرازی نے انجام دیے جبکہ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک کے بعد قومی ترانہ سے کیا گیا۔
اس موقع پر وفاقی سیکریٹری سید طارق مصطفی نے گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں نے کہاکہ ”نکل مکانیاں اور بے سروسامانیاں“ نہ صرف تاریخ کا ایک آئینہ ہے بلکہ انسانیت کے ایک درد، قربانی اور جدوجہد کی بہترین عکاس ہے، گورنر سندھ کی جانب سے یہ خصوصی پیغام ہے کہ شاہ صاحب نے اس کتاب میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیام پاکستان تک کی ہجرتوں کا احاطہ کیا ہے، انبیاءکرام، اولیاءاللہ اور عام انسانوں کی ہجرتوں کو جس بصیرت اور حساسیت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے وہ واقعی قابل تحسین ہے، خاص طور پر قیام پاکستان کے وقت لاکھوں مہاجرین کی بے سروسامانی، قربانی اور ان کے حقوق کی یاد دہانی آج کے دور میں نہایت اہمیت رکھتی ہے، یہ کتاب نہ صرف ماضی کی یاد دہانی ہے بلکہ حال اور مستقبل کے لیے رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے، پاکستان آرمی کا کردار، قدرتی آفات میں ان کی خدمات اور بیرونِ ملک جانے کے خواہش مند پاکستانیوں کے لیے رہنما اصول یہ سب اس کتاب میں شامل ہیں، یہ ایک جامع دستاویز ہے جو قومی شعور کو بیدار کرنے کے لیے بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، گورنر سندھ کی طرف سے مصنف بریگیڈیئر (ر) سید کرار حسین عابدی کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے ایک حساس اور اہم موضوع پر اپنا قلم اٹھایا، ان کی علمی بصیرت، تجربہ اور قومی درد اس کتاب کے ہر صفحے سے جھلکتا ہے، گورنر سندھ کی ہدایت کے مطابق ہمیں اپنی تاریخ کو جاننا ، سمجھنا اور اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے، مہاجرین کی قربانیوں کو فراموش کرنا ہماری قومی شناخت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، ہمیں ان کے حقوق ، خدمات اور جدوجہد کو تسلیم کرنا ہوگا۔
ایمبسیڈر جمیل احمد خان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہاکہ یہ کتاب نہیں بلکہ ایک تاریخ ہے، انسانی یا اسلامی ارتقائی دور پر لکھی گئی کتاب تعریف کے قابل ہے، میں بریگیڈیئر (ر) سید کرار حسین عابدی کو اس کتاب پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، اس کتاب میں ملکی و بین الاقوامی قانون کو اوراق میں سمودیا گیا ہے۔ انہوں نے انسانی جدوجہد، قربانی ،استقامت ، اور فکری انداز کو پیش کرکے موضوع کا اصل مقصد پیش کیا،صاحب کتاب بریگیڈیئر (ر) سید کرار حسین عابدی نے کہاکہ سب سے پہلے میں گورنر سندھ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس کتاب کے دیباچے پر بہت کچھ لکھا، پاک آرمی نے مجھے پاکستان سمیت کراچی کے لوگوں کی خدمت کے مواقع فراہم کیے، سب سے زیادہ اپنی بیگم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی سپورٹ کے بغیر فوج میں چار دن گزارنا مشکل تھا۔ کارگل کی جنگ میں حصہ لیا، میری غیر موجودگی میں جس طرح میری بیوی نے بچوں کی پرورش وہ قابل تعریف ہے، بچوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ماﺅں کی قدر کریں یہ ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، صدر محمد احمد شاہ نے آرٹس کونسل کو زمین سے اٹھا کر فلک پر پہنچا دیا ہے، 2002ءمیں آرٹس کونسل کے گیٹ پر لوٹتے تھے اور آج یہ عالم ہے کہ ایک وقت میں چار چار پروگرام ہورہے ہوتے ہیں، آرٹس کونسل کی مینجمنٹ ہم سے بھی بہت آگے نکل چکی ہے، کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میں نے یہ اپنی کتاب مہاجرین کی زندگی سے متاثر ہوکر لکھی جس میں ہجرتوں اور سیلاب کے بارے میں بھی بتایا ہے، پاکستان آرمی کے جوان اپنے فرض کی خاطر عوام کے لیے اپنی جانیں قربان کردیتے ہیں۔
