غیر ضروری اخراجات اور دکھاوے کا نتیجہ ذہنی دباؤ اور بے چینی کی صورت میں نکلتا ہے: سعدیہ راشد

غیر ضروری اخراجات اور دکھاوے کا نتیجہ ذہنی دباؤ اور بے چینی کی صورت میں نکلتا ہے: سعدیہ راشد

کراچی: ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر سعدیہ راشد نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کی تاریخ میں کسی ایسی شخصیت کی تلاش کی جائے جو علم، تحقیق، خدمتِ خلق اور اعلیٰ کردار کا روشن نمونہ ہو تو شہیدِ پاکستان حکیم محمد سعیدؒ کا نام نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ ایک عظیم طبیب، ممتاز محقق، کامیاب منتظم اور قوم کے مخلص رہنما تھے، مگر ان تمام خوبیوں سے بڑھ کر وہ نہایت سادہ، بااخلاق اور نرم دل انسان تھے۔

انہوں نے یہ بات 22 جنوری 2026 کو ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ ہمدرد نونہال اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس کا انعقاد بیت الحکمہ آڈیٹوریم، مدینۃ الحکمہ میں ہوا، جس کا موضوع تھا:

“سادگی، قناعت اور کفایت شعاری,شہید حکیم محمد سعیدؒ کی زندگی سے سبق”۔سعدیہ راشد نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حکیم محمد سعیدؒ کو عزت، شہرت اور وسائل عطا کیے۔ وہ وفاقی وزیرِ صحت اور گورنر سندھ جیسے اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز رہے، مگر اس کے باوجود انہوں نے کبھی نمود و نمائش یا دکھاوے کی زندگی اختیار نہیں کی۔ ان کا لباس، خوراک اور طرزِ زندگی انتہائی سادہ تھا۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ “سادگی انسان کو بڑا بناتی ہے اور دکھاوا انسان کو چھوٹا کر دیتا ہے۔”

انہوں نے نونہالوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دور غیر ضروری اخراجات، مہنگے کپڑوں اور دکھاوے کی دوڑ کا دور ہے، جس کا نتیجہ خوشی کے بجائے ذہنی دباؤ اور بے چینی کی صورت میں نکلتا ہے۔ قناعت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان محنت ترک کر دے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ محنت کے ساتھ دل کا سکون بھی حاصل کیا جائے، جو ملے اس پر شکر اور جو نہ ملے اس پر صبر کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سادگی، قناعت اور کفایت شعاری کی بہترین مثال ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی سیرتِ مبارکہ ہے، جنہوں نے سادہ زندگی اختیار فرمائی اور ہمیں یہ درس دیا کہ سادگی ایمان کی خوبصورتی ہے۔ انہی اصولوں پر حکیم محمد سعیدؒ نے خود بھی عمل کیا اور نونہالوں کو بھی ان اقدار کی تلقین کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صرف بچوں کو نصیحت کافی نہیں، بلکہ والدین اور اساتذہ کو بھی عملی طور پر سادہ زندگی اپنا کر مثال بننا ہوگا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی سوئی سدرن گیس کمپنی کے ترجمان سلمان احمد صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکیم محمد سعیدؒ ایک آفاقی شخصیت تھے، جن کا تعلق صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے برصغیر سے تھا۔ وہ طب، علم، تحقیق اور خدمتِ انسانیت کا حسین امتزاج تھے اور تقریباً 200 کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کی زندگی سنتِ رسول ﷺ کا عملی نمونہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیاوی مال بھی عطا کیا، مگر انہوں نے اسے اپنی ذات پر خرچ کرنے کے بجائے انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کیا۔ ہمدرد فاؤنڈیشن اور ہمدرد یونیورسٹی جیسے ادارے ان کی روشن مثال ہیں، جن سے آج ہزاروں طلبہ مستفید ہو رہے ہیں۔

انہوں نے سعدیہ راشد اور ان کی ٹیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ حکیم محمد سعیدؒ کے مشن کو قابلِ تقلید انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔

تقریب میں نونہال مقررین مریم فاطمہ، عائشہ فواد، جائشہ احمر اور دیگر طلبہ نے موضوع پر پُراثر تقاریر کیں۔ اجلاس کا آغاز محمد معاذ علی کی تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ محمد ہادی نے پیش کی۔ اختتام پر طلبہ نے ٹیبلوز، خاکے اور ملی نغمے پیش کیے جبکہ ہمدرد پبلک اسکول کے طلبہ نے دعائے سعید پیش کی۔ تقریب میں طلبہ، اساتذہ، والدین اور معزز مہمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

 

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں