کراچی: حکومت سندھ کا سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پرسوں رات کو ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، گل پلازہ ہم سبھی کسی نہ کسی وقت جا چکے ہونگے، وہاں
ابھی تک وجوہات فائنل نہیں ہوئیں، اندازا ہے شاید شارٹ سرکٹ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کی آگ اب بھی 10 فیصد باقی ہے، عمارت میں اندر جانے کے راستے نہیں ہیں، تاجر رہنما اپنے حصے اور حکومت اپنے حصے کا کام پورا کرے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے سانحہ گل پلازہ کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کےلیے کمشنر کراچی کی سربراہی میں کمیٹی بنادی گئی ہے، ڈی آئی جی کراچی کمیٹی کی معاونت کریں گے،فارنزک لیبارٹری لاہور سے بھی مدد کی اپیل کی ہے۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ انکوائری کسی کے پیچھے پڑنے والی نہیں، اپنی غلطیاں درست کرنے والی ہے، تخریب کاری کے شواہد ملے تو کارروائی ضرور ہوگی، غلطی کسی کی بھی ہوسکتی ہے اور اس سے سیکھنے کی کوشش کریں گے۔
، انکوائری سے وجوہات کا پتہ چلے گا، فوری طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ذمہ داروں کو سزائیں ہوں گی لیکن کسی کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جائےگا، کچھ ایسی غلطیاں ہیں جن سے فوری طور پر بچا جا سکتا ہے، سانحے کی جگہ کو فوری طور پر سیل کردیا جاتا ہے تاکہ کام کیا جاسکے، ہر کوئی اپنی اپنی ماہرانہ رائے دینا شروع ہو جاتا ہے، اس واقعے پر مبالغہ آرائی سے گریز کیا جائے۔
