کارڈ لائیں ڈھکن لے جائیں:نیو کراچی ٹاون میں ایک ہزار مین ہولز کور کی مفت تقسیم

نیو کراچی ٹاون میں ایک ہزار مین ہولز کور کی مفت تقسیم

کراچی: نیوکراچی ٹاؤن پاور ہاؤس چورنگی پر شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے ایک ہزار مین ہول کورز کی مفت تقسیم کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر خان مہمانِ خصوصی تھے، جبکہ وائس چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن شعیب بن ظہیر، امیر جماعتِ اسلامی ضلع شمالی مجتبیٰ طارق، تمام یوسیز کے چیئرمین، وائس چیئرمین، کونسلرز، ٹاؤن افسران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ نیو کراچی ٹاؤن کے چیئرمین محمد یوسف قابلِ تحسین ہیں جنہوں نے بچوں اور شہریوں کی قیمتی جانوں کو محفوظ بنانے کے لیے ٹاؤن فنڈ سے ایک ہزار مین ہول کورز کی فراہمی کا عملی قدم اٹھایا۔ کراچی میں کھلے مین ہولز کے باعث درجنوں معصوم بچے اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، ایسے میں اگر کوئی ادارہ یا نمائندہ عوامی جانوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدام کرتا ہے تو یہ قابلِ ستائش ہے۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کا کراچی کے حوالے سے کوئی واضح اور عوام دوست ویژن نظر نہیں آتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مرتضیٰ وہاب ڈھائی سالہ دور میں کراچی کو کون سا بڑا اور مکمل منصوبہ دے سکے؟ شہر آج بھی ٹوٹی سڑکوں، ابلتے گٹروں اور پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ واٹر ٹینکر مافیا آج بھی دندناتا پھر رہا ہے، منگھوپیر سمیت مختلف علاقوں میں غیرقانونی ہائیڈرنٹس موجود ہیں، جہاں سے روزانہ کروڑوں روپے کمائے جا رہے ہیں، جبکہ عوام مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جماعتِ اسلامی اختیارات سے بڑھ کر کراچی کی خدمت کر رہی ہے۔ پارکوں کی بحالی، کھیل کے میدانوں کی تعمیر، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، پیور بلاک منصوبے، سیوریج اور پانی کے مسائل کا حل جماعتِ اسلامی کی عملی سیاست کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کراچی کے بچوں کو گٹروں میں گر کر مرنے نہیں دے گی اور شہریوں کے جائز حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری رکھے گی۔

اس موقع پر چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام اس وقت شدید اذیت میں مبتلا ہیں، جبکہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ آئے دن دلخراش واقعات پیش آ رہے ہیں جن میں معصوم بچے کھلے گٹروں میں گر کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں، اسی صورتحال کے پیشِ نظر نیو کراچی ٹاؤن نے اپنے وسائل سے ایک ہزار مین ہول کورز مفت تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران نیو کراچی ٹاؤن میں سیوریج کے منصوبوں پر تقریباً نو کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اگرچہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن ٹاؤن کی ڈومین میں نہیں آتی، لیکن عوامی مفاد کے تحت اس کے حصے کے کام بھی ٹاؤن انتظامیہ نے انجام دیے۔ چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ بیس ہزار گھروں تک پینے کے پانی کی فراہمی ممکن بنائی گئی، حالانکہ یہ ان کے اختیارات میں شامل نہیں تھا۔

محمد یوسف نے واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن سے سوال کیا کہ وہ بتائے کہ ڈھائی سال میں نیو کراچی ٹاؤن میں کتنی سیوریج اور پانی کی لائنیں ڈالی گئیںانہوں نے کہا کہ جیسے ہی پانی کی سپلائی چلتی ہے، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں، مگر ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ادارے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ہم محض بیانات کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے بلکہ عملی اقدامات کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ ایک ہزار مین ہول کورز کی تقسیم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کہ ہم نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اختیار سے بڑھ کر کام کریں گے، الحمدللہ آج وہ وعدہ عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں