سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی مستقل بے حسی

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی مستقل بے حسی

تحریر: عقیل اختر

کراچی شہر میں صفائی کا مسئلہ اب کسی ایک موسم، تہوار یا ہنگامی صورتحال تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک مستقل شہری بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ، جو سندھ حکومت نے کراچی سمیت بڑے شہروں میں کچرے کے منظم انتظام کے لیے قائم کیا تھا، بدقسمتی سے اپنے قیام کے بنیادی مقاصد پورے کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتا ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ بقرعید کا زمانہ نہیں، کوئی ہنگامی صورتحال درپیش نہیں، اس کے باوجود شہر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی اور غیر اعلانیہ ڈمپنگ پوائنٹس بدستور قائم ہیں، جو عوام کے لیے اذیت اور بیماری کا باعث بن رہے ہیں۔نیو کراچی ٹاؤن کا علاقہ سیکٹر 11-I اس ناکامی کی زندہ مثال ہے، جہاں رہائشی آبادی کے عین درمیان کچرے کا مستقل ڈمپنگ پوائنٹ قائم ہے۔ یہاں روزانہ گھریلو اور تجارتی کچرا جمع کیا جاتا ہے، جس سے شدید بدبو، تعفن اور ماحولیاتی آلودگی پھیل رہی ہے۔ علاقہ مکین سخت ذہنی دباؤ اور اضطراب کا شکار ہیں، بچوں اور بزرگوں کی صحت متاثر ہو رہی ہے، مگر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نہ تو اس ڈمپنگ پوائنٹ کو ختم کرنے پر تیار ہے اور نہ ہی متبادل انتظام کے حوالے سے کوئی سنجیدہ منصوبہ بندی سامنے آ رہی ہے۔عوامی شکایات کے باوجود سالڈ ویسٹ انتظامیہ کا رویہ غیر سنجیدہ، غیر ذمہ دارانہ اور ٹال مٹول پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔ کبھی اسے عارضی پوائنٹ قرار دیا جاتا ہے، کبھی مشینری کی کمی کا بہانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ متبادل جگہ دستیاب نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ عارضی پوائنٹ ہے تو مہینوں سے مستقل کیوں موجود ہے اور اگر متبادل جگہ نہیں تو پھر رہائشی علاقوں کو کیوں قربان کیا جا رہا ہے نیو کراچی ٹاؤن کے تناظر میں یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے اس معاملے پر محض رسمی بیانات تک اکتفا نہیں کیا بلکہ عملی اقدامات کیے۔ انہوں نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام سے روابط استوار کیے، متعدد بار سیکٹر 11-I سمیت دیگر علاقوں کے مسائل کی نشاندہی کی اور اس بات پر زور دیا کہ ٹاؤن انتظامیہ اور سالڈ ویسٹ کے باہمی تعاون سے صفائی کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے۔

چیئرمین محمد یوسف کی جانب سے نہ صرف شکایات منتقل کی گئیں بلکہ ٹاؤن کی سطح پر ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی گئی، تاکہ کچرے کی منتقلی، صفائی اور ڈمپنگ کے مسائل حل ہو سکیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے ان کوششوں کا مثبت جواب دینے کے بجائے روایتی بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سیکٹر 11-I جیسے حساس رہائشی علاقے آج بھی کچرے کے ڈھیر کی صورت پیش کر رہے ہیں۔اس پورے معاملے میں ایک اہم پہلو وہ ہے جسے سندھ حکومت مسلسل نظرانداز کر رہی ہے۔ ٹاؤن  کے سینی ٹیشن ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین نہ صرف تجربہ کار ہیں بلکہ مکمل طور پر تربیت یافتہ بھی ہیں۔ یہ وہ عملہ ہے جو برسوں سے انہی علاقوں میں صفائی، کچرا اٹھانے، ڈمپنگ کے انتظام اور نالوں کی صفائی جیسے امور انجام دیتا آ رہا ہے۔ یہ لوگ علاقے کی لوکیشن، گلیوں کی ساخت، آبادی کے مسائل اور حساس مقامات سے بخوبی واقف ہیں، اس لیے یہ کام کرنے کے لیے سب سے موزوں ہیں۔یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جب صفائی کا اختیار ٹاؤن کے  سینی ٹیشن ڈیپارٹمنٹس کے پاس تھا تو محدود وسائل کے باوجود صورت حال آج کے مقابلے میں بہتر تھی۔

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے قیام کے بعد صفائی کا نظام بہتر ہونے کے بجائے مزید غیر مؤثر اور غیر مربوط ہو گیا۔ مرکزی کنٹرول، نجی کنٹریکٹرز اور زمینی حقائق سے لاعلمی نے کراچی کو کچرے کا شہر بنا دیا ہے۔اس کے باوجود سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی قیادت، بالخصوص وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے اس ادارے کی مسلسل سرپرستی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہر ماہ اربوں روپے کے فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں، مگر نہ ڈمپنگ پوائنٹس ختم ہو رہے ہیں، نہ صفائی کا معیار بہتر ہو رہا ہے اور نہ ہی کسی سطح پر احتساب نظر آتا ہے۔ عوام پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر کام صفر ہے تو فنڈز کس بنیاد پر دیے جا رہے ہیںاب وقت آ گیا ہے کہ سندھ حکومت سیاسی ضد اور ناکام تجربات سے باہر نکلے۔ صفائی اور کچرا اٹھانے کا عملی اختیار فوری طور پر ٹاؤن کے سینی ٹیشن ڈیپارٹمنٹس کو واپس دیا جائے، جو اس کام کا تجربہ، صلاحیت اور مقامی آگاہی رکھتے ہیں۔ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو اگر برقرار رکھنا ہے تو اسے پالیسی سازی اور نگرانی تک محدود رکھا جائے، نہ کہ شہری زندگی کو یرغمال بنانے کا ذریعہ بنایا جائے۔سیکٹر 11-I جیسے رہائشی علاقوں میں قائم ڈمپنگ پوائنٹس فوری طور پر ختم نہ کیے گئے تو عوامی غم و غصہ مزید شدت اختیار کرے گا، اور اس کی ذمہ داری براہِ راست انہی اداروں اور حکمرانوں پر عائد ہوگی جو اختیارات رکھنے کے باوجود مسائل حل کرنے سے گریزاں ہیں۔ کراچی کے شہری مزید بدبو، بیماری اور بدانتظامی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں