کراچی کا بلدیاتی قانون شق وار جائزہ
تحریر؛ عقیل اختر
کراچی کے بلدیاتی بحران کو اگر جذباتی نعروں اور وقتی الزامات سے ہٹا کر قانونی اور انتظامی تناظر میں دیکھا جائے تو اصل مسئلہ بہت واضح ہو جاتا ہے، اور وہ یہ کہ یہ شہر ایک ایسے بلدیاتی نظام کے تحت چلایا جا رہا ہے جو بظاہر تو مقامی حکومت کے قیام کا اعلان کرتا ہے مگر عملی طور پر مقامی اختیار کو محدود، مشروط اور غیر مؤثر بنا دیتا ہے۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کریں تاکہ عوام اپنے معاملات خود طے کر سکیں، مگر سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ اس آئینی روح سے زیادہ صوبائی کنٹرول کے تحفظ کا قانون بن کر سامنے آتا ہے۔
یہ ایکٹ مقامی حکومتوں کے قیام، میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور کونسلز کی تشکیل کا وعدہ تو کرتا ہے، مگر جیسے جیسے اس کی شقوں کو پڑھا جائے، یہ احساس گہرا ہوتا جاتا ہے کہ یہ نظام اختیار دینے کے بجائے اختیار کو قابو میں رکھنے کا ایک منظم طریقہ ہے۔ قانون میں منتخب نمائندے موجود ہیں، مگر فیصلہ سازی کی اصل طاقت ان کے ہاتھ میں نہیں۔ کراچی کا میئر شہریوں کے سامنے جواب دہ ہے، مگر وہ پولیس، زمین، ماسٹر پلان، بڑے ترقیاتی منصوبوں، ٹرانسپورٹ، پانی اور سیوریج جیسے بنیادی شعبوں پر عملی اختیار نہیں رکھتا۔ یہ تمام شعبے مختلف صوبائی محکموں، بورڈز اور اتھارٹیز کے پاس ہیں جو نہ میئر کو جواب دہ ہیں اور نہ ہی براہِ راست عوام کے سامنے۔قانونی طور پر بلدیاتی اداروں کو صفائی، سڑکوں، نکاسی آب، پارکس، اسٹریٹ لائٹس اور دیگر بنیادی سہولیات کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، مگر اسی قانون اور اس سے جڑے دیگر قوانین کے تحت انہی شعبوں کو مختلف صوبائی اداروں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر کسی علاقے میں نالا ابل رہا ہو تو ٹاؤن کہتا ہے یہ صوبائی ادارے کا کام ہے، صوبائی ادارہ کہتا ہے یہ بلدیہ کی ذمہ داری ہے، اور شہری گندگی میں کھڑا صرف تماشائی بن جاتا ہے۔ یہ قانونی ابہام محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا نظام ہے جس میں ذمہ داری نیچے اور اختیار اوپر رکھا گیا ہے۔مالی خودمختاری کے معاملے میں بھی سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ بلدیاتی اداروں کو مکمل اختیار دینے سے گریز کرتا ہے۔ قانون یہ تسلیم تو کرتا ہے کہ مقامی حکومتوں کو وسائل درکار ہیں، مگر بجٹ سازی، ٹیکس عائد کرنے، بڑے ترقیاتی فنڈز کے اجرا اور ان کے استعمال پر حتمی کنٹرول صوبائی حکومت کے پاس رکھتا ہے۔ بلدیاتی ادارے زیادہ تر صوبے کی جانب دیکھتے رہتے ہیں کہ کب اور کتنا فنڈ ملے گا، اور یہ فنڈ بھی اکثر سیاسی ترجیحات، وفاداریوں اور وقتی مفادات کی بنیاد پر جاری ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں مقامی سطح پر طویل المدتی منصوبہ بندی ممکن نہیں رہتی، اور ہر سال ادھورے منصوبے نئے مالی سال کے ساتھ دفن ہو جاتے ہیں۔اس ایکٹ کا ایک اور اہم اور خطرناک پہلو وہ شقیں ہیں جو صوبائی حکومت کو یہ اختیار دیتی ہیں کہ وہ کسی بھی وقت بلدیاتی اداروں کو معطل، تحلیل یا ان کے اختیارات محدود کر سکے۔ بظاہر یہ شق نظم و ضبط کے لیے ہے، مگر عملی طور پر یہ منتخب مقامی حکومت کے سر پر لٹکتی ہوئی ایک تلوار ہے۔ ایک میئر یا چیئرمین جانتا ہے کہ اگر اس نے صوبائی حکومت سے اختلاف کیا، یا اپنے شہر کے حق میں زیادہ زور دیا، تو ایک نوٹیفکیشن اس کی پوری حکومت کو غیر مؤثر بنا سکتا ہے۔ یہی خوف بلدیاتی قیادت کو مضبوط ہونے کے بجائے محتاط، خاموش اور بے اثر بنا دیتا ہے۔انتظامی سطح پر بھی یہی تضاد نظر آتا ہے۔ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت چیف میونسپل آفیسر اور دیگر کلیدی افسران صوبائی حکومت تعینات کرتی ہے، منتخب بلدیاتی قیادت نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شہر کا روزمرہ انتظام اس افسر کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو سیاسی طور پر صوبے کو جواب دہ ہے، نہ کہ شہر کے منتخب نمائندے کو۔ اس صورتحال میں افسر شاہی مقامی ضرورت کے بجائے صوبائی احکامات کو ترجیح دیتی ہے، اور شہری شکایت لے کر جس دروازے پر جاتا ہے، وہاں سے اسے کسی اور دروازے کی طرف بھیج دیا جاتا ہے۔
یہ تمام قانونی بندوبست وقت کے ساتھ نسلی، لسانی اور معاشی محرومیوں کو بھی جنم دیتا ہے۔ جب ایک شہر کے باسی یہ محسوس کریں کہ ان کے مسائل کے حل کا اختیار ان کے منتخب نمائندوں کے پاس نہیں، کہ فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیں، اور کہ وسائل تو ان کے شہر سے نکل رہے ہیں مگر واپس نہیں آ رہے، تو احساسِ محرومی ایک فطری ردِعمل کے طور پر ابھرتا ہے۔ یہی احساس بعد میں سیاسی بے چینی اور سماجی تقسیم کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جس کا خمیازہ پورا شہر بھگتتا ہے۔سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی ایک خاموش مگر نہایت اہم کمزوری اس کا عدم استحکام ہے۔ یہ قانون بار بار ترامیم کا شکار رہا ہے، اور ہر نئی حکومت نے اسے اپنے سیاسی مفاد کے مطابق بدلنے کی کوشش کی ہے۔ کبھی اختیارات واپس لیے گئے، کبھی محدود دیے گئے، اور کبھی پورا نظام ہی معطل کر دیا گیا۔ اس قانونی عدم تسلسل نے کراچی کو ایک مستقل تجربہ گاہ بنا دیا ہے جہاں ہر چند سال بعد نیا ڈھانچہ آتا ہے، پرانا ختم ہو جاتا ہے، اور شہری کو کبھی یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ اس کے مسائل کا اصل ذمہ دار کون ہے۔عدالتی سطح پر بھی یہ حقیقت سامنے آ چکی ہے کہ مقامی حکومتوں کو آئین کے مطابق بااختیار بنانا لازم ہے۔ اعلیٰ عدالتیں بارہا یہ قرار دے چکی ہیں کہ بلدیاتی اداروں کو محض نمائشی نہیں بلکہ حقیقی انتظامی اور مالی اختیار دیا جانا چاہیے، مگر عملی طور پر قانون سازی اور نفاذ کے درمیان ایک گہرا خلا موجود ہے۔ عدالتوں کے فیصلے فائلوں میں محفوظ رہتے ہیں، جبکہ شہر کی سڑکوں پر پانی، کچرا اور اندھیرا ویسے ہی رہتا ہے۔کراچی کے بنیادی بلدیاتی مسائل، چاہے وہ پانی کا بحران ہو، سیوریج کا نظام، کچرے کے ڈھیر، ٹرانسپورٹ کی قلت یا ٹوٹی ہوئی سڑکیں، دراصل اسی قانونی ڈھانچے کا منطقی نتیجہ ہیں۔ یہ مسائل اس لیے حل نہیں ہو پاتے کہ جن اداروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، ان کے پاس اختیار نہیں، اور جن کے پاس اختیار ہے، وہ عوام کے سامنے جواب دہ نہیں۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی شقوں میں چھپا ہوا ہے اور جو کراچی کی روزمرہ زندگی میں ایک تلخ حقیقت بن کر سامنے آتا ہے۔آخر میں سوال یہ نہیں کہ کراچی کو مزید منصوبوں کی ضرورت ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا کراچی کو اپنے فیصلے خود کرنے کا حق دیا جائے گا یا نہیں۔ جب تک آئین کے آرٹیکل 140-A کی روح کے مطابق بلدیاتی نظام کو حقیقی خودمختاری، مالی آزادی اور انتظامی اختیار نہیں دیا جاتا، تب تک سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ ایک ایسی دستاویز ہی رہے گی جو کاغذ پر تو جمہوریت کی بات کرتی ہے، مگر عملی طور پر شہر کو بے اختیار رکھتی ہے۔ کراچی کے مسائل نالوں اور سڑکوں میں نہیں، بلکہ قانون کی ان سطروں میں دفن ہیں جہاں اختیار روک لیا گیا ہے، اور جب تک ان سطروں کو شہری کے حق میں نہیں بدلا جائے گا، یہ شہر اسی طرح بوجھ اٹھاتا رہے گا، سوال پوچھتا رہے گا، اور جواب کا منتظر رہے گا۔
