آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے اسکول آف ویژوول اینڈ پرفارمنگ آرٹس کی جانب سے  نشست کا انعقاد

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے اسکول آف ویژوول اینڈ پرفارمنگ آرٹس کی جانب سے  نشست کا انعقاد

کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے اسکول آف ویژوول اینڈ پرفارمنگ آرٹس کی جانب سے ”The Bridging of Academia & Industry“ کے عنوان سے نشست کا انعقاد حسینہ معین ہال میں کیاگیا جس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے خصوصی شرکت کی جبکہ معروف فنکار و کیوریٹر آر ایم نعیم، فنکارہ صدف نعیم اور ماہر تعلیم، مصنفہ، کیوریٹر اور فنکارہ صولت اجمل نے موضوع سے متعلق اظہارِ خیال کیا۔ نشست کی نظامت کے فرائض معروف فنکار محمد ذیشان نے انجام دیے۔

اس موقع پر معروف فنکار آر ۔ ایم نعیم نے کہاکہ جہاں سے میں آیا ہوں وہاں آرٹسٹ کو بہت بُرا سمجھا جاتا ہے، ہمیں خود کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے،آج کے بچے کل کے اسٹارز ہیں، ہمیں ان کے لیے راہیں ہموار کرنا چاہئیں، ہماری گیلریز آپ کا کام بیچ رہی ہیں مگر فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ آپ کیا بیچنا چاہتے ہیں۔ ہمیں خدا پر بھروسہ ہونا چاہیے کیونکہ اگر آپ صرف ضرورت پوری کرنے کے لیے کام کررہے ہیں تو خدا صرف آپ کی ضرورت پوری کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ اپنے کام کو بیچنے کی بجائے دیکھنے پر توجہ دیں، پروڈکٹ نہ بنیں۔

انہوں نے کہاکہ کسی بھی کاروبار کو بڑا کرنے کے لیے سوچ کا وسیع ہونا بہت ضروری ہے، کوئی ماں باپ اپنے بچے کو بُرا بنانا نہیں چاہتا، محمد ذیشان کا دوسروں تک اپنے کام کو پہنچانا خوش آئند بات ہے۔اپنے کام کو لے کر ہمیں سنجیدہ ہونا پڑے گا،اگر کچھ سمجھ نہیں آرہا تو بلا جھجھک کیورٹر سے رابطہ کریں اس سے پوچھیں۔

انہوں نے کہاکہ احمد شاہ کی وجہ سے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ثقافتی سرگرمیاں عروج پر ہیں وہ کچھ نہ کچھ ضرور کرتے رہتے ہیں۔فنکارہ صدف نعیم نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہاکہ اکیڈمیا انڈسٹری میں اساتذہ اور طلباءکو اکٹھا کرنا بڑی بات ہے، نئی نوجوان نسل کے پاس اب کام کے مواقع بہت زیادہ ہیں ان کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ کام میں بہتری کے لیے نئی نسل کے طلباء کا اپنے اساتذہ کے ساتھ رابطے میں رہنا بہت ضروری ہے، اب یہ طلباءپر منحصر ہے کہ وہ کس انداز میں اپنا کام آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اللہ نے آپ کو صلاحیتوں سے نوازا ہے ، ہمیں ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کرنا، اپنے کام پر دھیان دیں، ہمیں سوچیں کہ ہم سیکھنے کے مراحل میں ہیں۔

ماہر تعلیم و فنکارہ صولت اجمل نے اپنی گفتگو میں کہاکہ میری نظر میں آرٹ ایک زندگی ہے، سیکھنے کا عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے، آپ نے آرٹ کو فروغ دینا ہے اگر آپ کا کام کسی کو پسند آتا ہے تو یہ بہت بڑی بات ہے، ہم جو پل بنارہے ہیں اس میں آر۔ایم نعیم اور ذیشان کا کردار اہم ہے، آرٹ انڈسٹری میں ان جیسے استادوں کا اضافہ ضروری ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں