16دسمبر یہ وہ دن تھا جب معصوم بچوں کی ہنستی کھیلتی دنیا کو بے رحمی سے اجاڑ دیا گیا: عبدالجمیل خان
کراچی: چئیرمین لانڈھی ٹاون عبدالجمیل خان نے کہا ہے پاکستان کی تاریخ میں 16 دسمبر کا دن ایک سانحے کی علامت بن چکا ہے، جو نہ صرف ایک قومی المیہ تھا بلکہ اس نے پاکستانی عوام کے دلوں میں گہرے زخم بھی چھوڑے ہیں۔ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ہونے والے حملے نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ وہ دن تھا جب معصوم بچوں کی ہنستی کھیلتی دنیا کو بے رحمی سے اجاڑ دیا گیا۔
دہشت گردوں نے نہتے بچوں اور اساتذہ کو نشانہ بنا کر انسانیت کو شرمندہ کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم لانڈھی ٹاون کے زیر انتظام بلیک ڈے 16دسمبر کے حوالے سے منعقدہ تعزیتی تقریب میں خطاب کرنے کے موقع پر کیا۔ تعژیتی تقریب میں ٹی ایم سی سید امداد علی شاہ۔ڈائریکٹر ایجوکیشن مشاہد انور و دیگر بھی موجود تھے۔اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ 16دسمبر کے سیاہ دن کے موقع پر طالب علموں کی کتابوں، بستوں اور خوابوں سے بھرے ہاتھ خون میں رنگ دیے گئے۔ وہ بچے جو مستقبل کے معمار تھے، اپنے والدین کی آنکھوں کے تارے تھے، ایک لمحے میں ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا کر دیے گئے۔ ٹی ایم سی سید امداد علی شاہ نے اس موقع پر کہاکہ یہ سانحہ صرف پشاور یا خیبر پختونخوا کا نہیں تھا، بلکہ پورے پاکستان کا دکھ تھا جس نے ہر آنکھ کو اشکبار اور ہر دل کو سوگوار کر دیا۔آرمی پبلک اسکول کا یہ سانحہ پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس واقعے نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب، کوئی انسانیت اور کوئی اخلاق نہیں ہوتی۔ اس دن پاکستانی قوم نے یکجہتی، صبر اور حوصلے کی ایک مثال قائم کی اور یہ عہد کیا کہ معصوم بچوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
آج بھی 16 دسمبر آتے ہی دل دکھ سے بھر جاتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور وہ معصوم چہرے یاد آ جاتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بن گئے۔ ڈائریکٹر ایجوکیشن مشاہد انور نے کہا کہ پوری قوم ان شہداء کو سلام پیش کرتی ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اعلیٰ درجات عطا فرمائے اور پاکستان کو ہمیشہ امن و سلامتی کا گہوارہ بنائے۔
