مشیرِ وزیراعلیٰ سندھ برائےبحالیات گیانچندایسرانی کی زیرِصدارت پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بورڈ کا اجلاس
کراچی: پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے سندھ) بورڈ کا 22واں اہم اجلاس مشیرِ وزیراعلیٰ سندھ برائے بحالیات گیانچند ایسرانی کی زیرِ صدارت پی ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوا جس میں گیارہ نکاتی ایجنڈے پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران مالی سال 25-26 کے بجٹ، ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن وِنگ کے قیام اور بھرتیوں کے عمل سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سیکریٹری محکمہ بحالی نثار احمد میمن، ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ، ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس سید شاہ حسین شاہ سمیت اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مالی سال 26–2025 کے لیے بجٹ کی منظوری دی گئی۔
کمیٹی نے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن (DRR) وِنگ کے قیام کی منظوری بھی دی۔ جس کے میں پی ای او سی اور تین پائلٹ اضلاع—نوشہروفیروز، ٹھٹھہ اور جامشورو میں بھرتیوں کی اجازت بھی دے دی گئی۔ پی ای او سی میں میڈیا سیل کے قیام کی منظوری دی گئی تاکہ ایمرجنسی صورتِ حال میں بروقت معلومات عوام تک پہنچائی جا سکیں۔ مزید براں، پی ای او سی کے خالی عہدوں پر بھرتی کی منظوری بھی دے دی گئی۔
اجلاس کے دوران ضلع وار تقسیم شدہ اور اسٹاک میں موجود تمام اشیاء کا مکمل ریکارڈ رکھنے اور مزید بہتر بنانے اور بھرتیوں کا عمل سندھ حکومت کے پورٹل کے ذریعے مکمل کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ اس موقع پر مشیر وزیراعلیٰ سندھ برائے بحالیات گیانچند ایسرانی نےہدایات دیں کہ ہر چیز کا مکمل ڈیٹا برقرار رکھا جائے۔
یونین کونسل اور تعلقہ سطح تک ہر چیز کا درست ریکارڈ موجود ہو۔ ہم اگر پانچ ہزار ٹینٹس ڈپٹی کمشنرز کو دیتے ہیں تو اس کی سخت مانیٹرنگ بھی ضروری ہے۔ سندھ حکومت پی ڈی ایم اے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، شفافیت بڑھانے اور ریسپانس سسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے
ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ نے کہا کہ ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن ہماری اولین ترجیح ہے۔ صوبے میں پیشگی تیاری اور بروقت ردعمل کو مضبوط بنانے کے لیے جدید اور ماہر افرادی قوت ناگزیر ہے۔ وِنگ کے قیام سے پی ڈی ایم اے کی تکنیکی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے ہم ہنگامی حالات کا مقابلہ مزید مؤثر انداز میں کر سکیں گے۔ مؤثر کمیونیکیشن جانیں بچاتی ہے۔ میڈیا سیل کی مضبوطی ہنگامی صورتحال میں عوامی رہنمائی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
