گیانچند ایسرانی کی زیر صدارت سندھ ایمرجنسی کونسل کا اجلاس

گیانچند ایسرانی کی زیر صدارت سندھ ایمرجنسی کونسل کا اجلاس

کراچی: سندھ ایمرجنسی کونسل کا چوتھا اجلاس مشیرِ وزیراعلیٰ سندھ برائے بحالیات گیانچند ایسرانی کی زیر صدارت پی ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوا  جس میں ریسکیو 1122 کی کارکردگی، ایمرجنسی رسپانس، سہولیات میں توسیع، جاری سرگرمیوں، مسائل اور وسائل کی ضرورت پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران ریسکیو 1122 کی کارکردگی کو سراہا گیا اور صوبہ سندھ کے لیے اس ادارے کو لائف لائن قرار دیا۔

اجلاس میں سیکریٹری بحالی نثار احمد میمن، ڈی جی پی ڈی ایم اے سید سلمان شاہ، ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 سندھ بریگیڈیئر (ر) واجد سبغت اللہ مہر، چیف آپریٹنگ آفیسر ریسکیو 1122 ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ سمیت متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں کونسل نے ریسکیو اکیڈمی سندھ کے قیام کی باضابطہ منظوری دی اور اسے صوبے میں ایمرجنسی مینجمنٹ کی تاریخ میں سنگِ میل قرار دیا۔

اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ ریسکیو اکیڈمی میں عالمی معیار کی تربیت، فائر فائٹنگ، سرچ اینڈ ریسکیو، میڈیکل ایمرجنسی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ٹیکنیکل کورسز متعارف کرائے جائیں گے۔اجلاس میں ریسکیو 1122 اہلکاروں کے لیے گروپ انشورنس کی بھی منظوری دی گئی۔  اجلاس میں ریسکیو 1122 سندھ اور ملیر انڈسٹریل پارک کے درمیان زمین کے الاٹمنٹ سے متعلق MoU کے انعقاد کی منظوری دی گئی جس کے تحت ملیر انڈسٹریل پارک میں 2.5 ایکڑ پر ایمرجنسی ریسپانس سینٹر قائم کیا جائے گا جو صنعتی علاقوں، رہائشی زونز اور ٹرانسپورٹ کاریڈورز کو بروقت خدمات فراہم کرے گا۔

اجلاس میں ریسکیو 1122 سندھ کے لیے الگ اکاؤنٹ کھولنے کی منظوری دی گئی جس میں زمین، رقم یا دیگر عطیات وصول کیے جاسکیں گے جبکہ فنانس ڈپارٹمنٹ کو اس عمل میں معاونت کی ذمہ داری دی گئی۔ ساتھ ہی ساتھ اجلاس میں صوبے میں کسی بھی عمارت یا تنصیب کی تعمیر شروع کرنے سے پہلے لازمی فائر اینڈ لائف سیفٹی این او سی متعارف کرانے کی منظوری بھی دے دی گئی۔ کونسل نے اس اقدام کو صوبائی سطح پر محفوظ تعمیرات کے لیے بنیادی اور ناگزیر قرار دیا۔

اس موقع پر مشیرِ وزیراعلیٰ سندھ گیان چند ایسرانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122 سندھ میں ایمرجنسی خدمات کا اعصابی مرکز ہے۔ اس کی مضبوطی، جدید تربیت، بہتر سازوسامان، جدید ٹیکنالوجی، یکساں کمانڈ اسٹرکچر اور اہلکاروں کی فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ریسکیو اہلکار اپنی جان خطرے میں ڈال کر عوام کی جان بچاتے ہیں۔ ان کی فلاح، تحفظ اور انشورنس ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

گیانچند ایسرانی نے واضح کیا کہ ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو آنے والے دنوں میں سندھ کے ہر شہری کی زندگی، تحفظ اور ایمرجنسی ریسپانس کو بدل کر رکھ دیں گے۔ ایمرجنسی کے سب سے بڑے ادارے کو فیصلہ سازی کے فورمز پر شامل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ مشیر وزیراعلی سندھ گیانچند ایسرانی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریسکیو 1122 کو عالمی معیار کی ایمرجنسی سروس بنانے کے لیے فنڈنگ، تربیت، ڈھانچے اور فائر سروسز کی مکمل منتقلی پر ترجیحی بنیادوں پر عمل کیا جائے گا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں