ورلڈ کلچر فیسٹیول میں فلسطین کا تھیٹر پلے ”As If It Were a Dream“ شائقین کی توجہ کا مرکز

ورلڈ کلچر فیسٹیول میں فلسطین کا تھیٹر پلے ”As If It Were a Dream“ شائقین کی توجہ کا مرکز

کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیراہتمام 39روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025“ کے 36ویں روز پانچ ورکشاپس، ”فلم اسکریننگ“ اور فلسطین کے The Freedom Theatre کی جانب سے ”As if it were Dream“ پیش کیا گیا جبکہ قوالی نائٹ میں ایاز فرید اور ابو محمد قوال نے سماں باندھ دیا۔ فلسطینی تھیٹر ”As if it were Dream“ کے مصنف و ہدایت کار Mo’men Sa’di تھے، تھیٹر کی کہانی ایک فلسطینی نوجوان کی تنگ گلیوں کے درمیان کھلتی ہے، وہ گلیاں جو چیک پوسٹوں، سپاہیوں اور خوابوں کے درمیان قید ہیں لیکن ان ہی ویرانیوں کے درمیان ایک نوجوان کے دل میں اداکار بننے کا خواب پروان چڑھتا ہے جوکہ آسان نہیں، سانحات اور جدائیاں بڑھتی جاتی ہیں اور یہ درد اس وقت اپنے عروج پر پہنچتا ہے جب نوجوان ہار مان لینے اور ایک معجزاتی ضد کے درمیان جھولتا ہے، وہ جان لیتا ہے کہ تھیٹر صرف تفریح یا اداکاری کی جگہ نہیںبلکہ خود ایک مزاحمت ہے، تب اسٹیج ایک نئے محاذ میں بدل جاتا ہے، الفاظ گولیوں کا روپ لے لیتے ہیں اور اداکاری، زنجیروں اور تاریکی کے خلاف بغاوت بن جاتی ہے”گویا یہ ایک خواب ہو“ محض ایک ذاتی کہانی نہیں بلکہ اس پوری انسانیت کی جدوجہد کا آئینہ ہے جو کچلے جانے والے حالات کے خلاف لڑتی ہے۔

تھیٹر کی دلچسپ کہانی شائقین کی توجہ کا مرکز بنی رہی جبکہ فلسطینی فنکاروں کی بہترین پرفارمنس کے اعتراف میں ہال میں بیٹھے تمام لوگوں نے انہیں کھڑے ہوکر خراجِ تحسین پیش کیا اور خوب تالیاں بجائیں۔ فیسٹیول کے 36ویں روز کا آغاز موزمبیق کی آرٹسٹ Luis M Santos کی Sculpture ورکشاپ سے کیاگیا جس میں آرٹس کونسل فائن آرٹ اور مکلی ،سجاول پیپلز اسکول سے آئے طلباءنے بڑی تعداد نے شرکت کی۔تربیتی ورکشاپ میں Luis M Santos نے ورکشاپ میں شرکاءکو مجسمہ سازی کے تخلیقی گُر سکھائے۔ اس موقع پر Luis M Santos نے کہاکہ آپ اپنی مدد سے جتنا چاہیںآرٹ تخلیق کر سکتے ہیں،بس کام کرتے رہیں، آرٹ انسان پہلے اپنے لیے بناتا ہے، ضروری نہیں کہ ہر چیز فروخت کی جائے، ورلڈ کلچر فیسٹیول کو ہی دیکھ لیں، پوری ٹیم اسے کس طرح کامیابی سے آگے بڑھا رہی ہے اور یہی اصل آرٹ ہے۔ آرٹ کی تخلیق میں وقت نہیں دیکھا جاتا۔

ورکشاپ میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ اگر انسان محنت کرے تو ترقی کرسکتا ہے،آرٹس کونسل وہ جگہ ہے جہاں سب برابر ہیں، یہاں سندھ، بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخواہ سب ایک ہیں، انہوں نے کہاکہ اگر تم میں سیکھنے کا جذبہ ہے تو کوئی طاقت تمہیں آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی، مجھے آپ سب نوجوانوں پر فخر ہے، آپ ہی ہمارے آرٹ کا مستقبل ہیں۔دوسری ورکشاپ روس کی جانب سے تھیٹر سے متعلق تھی جس میں Lidia Kopina نے جسم کی مختلف حرکات پر مبنی اداکاری کے گُر سکھائے ۔ ورکشاپ میں ڈائریکٹر تھیٹر اکیڈمی خالد احمد اور طلباءکی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں Lidia Kopina نے کہاکہ جب آپ اپنی آواز اور جسم کی تال سنتے ہیں پرفارم کرنے کا صحیح وقت وہی ہوتا ہے جس میں آپ واقعی پرفارم کرتے ہیں، ایک اداکار کو آواز کنٹرول کرنا فن آنا چاہیے، یہ تکنیک آپ کی اداکاری کو مضبوط بناتی ہے۔ تیسری ورکشاپ میں برازیل کی فنکارہ Victoria Santos نے طلباءکو فوٹو گرافی کے جدید طریقوں سے روشناس کرایا۔ برازیلی فنکارہ Victoria Santos نے ورکشاپ کے دوران گفتگو میں کہاکہ تصاویر یاد بناتی ہیں، مجھے لگتا ہے کہ اچھی تصاویر کے لیے اچھا کیمرہ نہیں جنون کا ہونا لازمی ہے، مجھے جو چیز اچھی لگتی ہے میں اس کی تصویر کھینچ لیتی ہوں، تصویر کی کہانی مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے۔ چوتھی ڈانس ورکشاپ میں جرمنی کی فنکارہ Alina Belyaginنے ہاتھوں کی مدد سے رقص کے تکنیکی گُر سکھائے۔ تربیتی ڈانس ورکشاپ میں Alina Belyagin اور Jay c Val نے بھرپور پرفارمنس کا مظاہرہ بھی کیا جس پر طلباءکی بڑی تعداد نے تالیاں بجاکر انہیں خوب داد دی۔ رقاصہ Alina Belyagin نے کہاکہ رقص کرتے ہوئے آپ کو اپنے ساتھی کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پرفارم کرنا ہوتا ہے جبکہ پانچویں فائن آرٹ ورکشاپ میں بارباڈوس کی مصورہ King Kesia نے آرٹ اسکول کے طلباءکو فن مصوری کے تخلیقی فن سے روشناس کرایا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں