ایک عظیم خاندان کی اداس داستان

ایک عظیم خاندان کی اداس داستان

سیدہ فریدہ

پاکستان کی تاریخ میں چند ایسے خاندان ہیں جنہوں نے اقتدار، سیاست، عوامی خدمت اور قربانی کو ایک ہی لڑی میں پرویا ہے۔ بھٹو خاندان انہی میں سے ایک ہے۔ یہ وہ گھرانہ ہے جس کی ذہانت، اعتماد اور عوام دوستی نے پورے خطے میں ایک نئی سیاسی سوچ پیدا کی، مگر اسی کے ساتھ قسمت نے ان پر المیوں کی ایسی ضرب لگائی کہ پوری نسل لہو میں نہا گئی۔ اس کالم میں ہم ان کی ذہانت، کارناموں اور المناک انجام کا جائزہ لیتے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو Visionary Leader جس نے خواب دیکھا

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے ان چند رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے عالمی سیاست کو جوان ذہن اور غیر معمولی وژن سے دیکھا۔ عوامی جمہوریہ چین سے تعلقات، اسلامی سربراہی کانفرنس، خود مختاری کی خارجہ   پالیسی، ایٹمی پروگرام، مزدور اور کسان کے حقوق بھٹو نے پاکستان کو خودداری اور جرأت کا راستہ دکھایا۔

لیکن طاقت کے ایوانوں میں دشمنی بھی بڑھتی ہے۔ 1977 کے بحران، مارشل لا اور پھر ایک متنازعہ مقدمے میں 1979 کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔ یہ صرف ایک شخص نہیں مرا، پاکستانی جمہوریت کی ریڑھ میں پہلی دراڑ پڑی۔

بینظیر بھٹو Courage کے تاج میں کانٹے

ذوالفقار کی بیٹی بینظیر بھٹو شاید جنوبی ایشیا کی تاریخ کی سب سے شاندار سیاسی خواتین میں سے ہیں۔ کم عمر میں والد کی پھانسی، جیل، نظر بندی مگر وہ ٹوٹی نہیں۔ وہ واپس آئیں، لڑیں، اور پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بنیں۔

سنہری تقریریں، جمہوری سوچ، اور عوام کے ساتھ جذباتی تعلق ان کی شخصیت کا حصہ تھے۔ لیکن سیاست میں دشمنیاں اور طاقت کی لڑائیاں حد سے بڑھیں۔ 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں ایک انتخابی جلسے کے بعد دہشتگردی کا شکار ہو گئیں۔ ایک بار پھر بھٹو نام کے ساتھ موت چمٹ گئی۔

مرتضیٰ بھٹو Politics, Conflict اور ایک گولی ذوالفقار کے بڑے بیٹے مرتضیٰ بھٹو نے اپنے والد کی موت کے بعد برف نہیں پکڑی وہ آتش بن گئے۔ جلا وطنی، مزاحمتی تنظیم، دنیا بھر میں سفارتی رسہ کشی ان کی زندگی ایک لڑائی تھی۔1996 میں کراچی میں پولیس مقابلے کے دوران انہیں گولیاں لگیں، اور وہ ہلاک ہو گئے۔ اس موت پر سوالات، سازشیں اور سیاسی مصلحتیں آج بھی فائلوں کے پیچھے سو رہی ہیں۔ ایک اور بھٹو زمین سے اٹھا اور زمین میں دفن ہو گیا۔شہنواز بھٹو خاموش موت، گہری Mystery بھٹو خاندان کے سب سے کم عمر بیٹے شہنواز کی موت ایک اور گتھی ہے۔ وہ دبئی سے فرانس آئے، اور اچانک خبر آئی کہ وہ ہوٹل کے کمرے میں مردہ پایا گیا۔ زہر؟ حادثہ؟ سیاسی کھیل؟ تفتیش کے باوجود کیس معلق رہا۔ بظاہر ایک حادثہ، مگر پس منظر میں چھپا ہوا ایک گہرا خوف۔

کیوں سب مرڈرڈ؟ سیاست، ذہانت اور طاقت کا ملاپ

پاکستان میں بھٹو خاندان پر حملہ کسی ایک وجہ سے نہیں ہوا۔ وہ طاقتور تھے، ذہین تھے، اور عوام کو راستہ دکھانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ایسے لوگ یا تو تاریخ بدلتے ہیں یا تاریخ انہیں مٹا دیتی ہے۔

بھٹوز نے طاقت کے مراکز کو چیلنج کیا اسٹیبلشمنٹ، عالمی سیاست، سرمایہ دار قوتیں۔ اس لڑائی میں ان کے پاس عوام کی محبت تھی، مگر دشمنوں کے پاس ہتھیار، جال اور وقت۔

بھٹو خاندان کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ ان کی ذہانت ان کے خلاف ثبوت بن گئی۔ذالفقار نے نظام ہلایا انہیں پھانسی دی گئی۔بینظیر نے راہ دکھائی انہیں گولی اور دھماکے نے روک لیا۔مرتضیٰ نے مزاحمت کی انہیں ریاستی طاقت نے مٹا دیا۔شہنواز نے خاموشی اختیار کی انہیں بھی خاموشی نے نگل لیا۔Garhi Khuda Bakhsh مٹی جہاں خواب دفن ہیں.

آج لاڑکانہ میں بھٹو خاندان کے مزاروں پر جا کر کوئی بھی دیکھے تو سمجھ سکتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ صرف قانون اور آئین سے نہیں، قبرستانوں سے بھی لکھی جاتی ہے۔

یہ قبریں صرف خاندان کی نہیں، پاکستان کی جمہوری جدوجہد کی علامت ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ visionaries مر سکتے ہیں، مگر ان کے خواب نہیں مرتے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں