محفوظ تعمیرات اور فائر سیفٹی کے اصولوں پرعمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے: سید افضل حمید
کراچی: ا ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید نے کہا ہے کہ تعمیراتی ترقی کے ساتھ ساتھ محفوظ تعمیرات اور فائر سیفٹی کے اصولوں پر عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ بات انھوں نے نجی ہوٹل میں نیشنل فورم فار انوائرمنٹ اینڈ ہیلتھ (این ایف ای ایچ) کے زیرِ اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ 15ویں سالانہ فائر سیفٹی اینڈ سیکیورٹی کنونشن اور ایوارڈز 2025 کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر فورم کے صدر نعیم قریشی،سول سوسائٹی کے نمائندگان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین بھی موجود تھے۔
سید افضل حمید نے کہا کہ فائر سیفٹی صرف تعمیراتی صنعت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ فائر سیفٹی اور سیکیورٹی جو صرف تعمیراتی صنعت ہی نہیں بلکہ ہر شہری کی زندگی، ہر ادارے، ہر عمارت، اور ہر شہر کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔پاکستان میں تعمیراتی صنعت تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے۔ نئے پروجیکٹس، ہاؤسنگ اسکیمز، کمرشل پلازے، اور بلند و بالا عمارات ہر شہر میں تعمیر ہو رہی ہیں مگر ترقی کے اس سفر میں محفوظ تعمیرات اور فائر سیفٹی کے اصولوں کو اختیار کرنا ہماری اجتماعی ذمے داری ہے۔اسید افضل حمید نے شہریوں سے اپیل کی کہ فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی تجارتی اداروں اور صنعتوں کا سماجی بائیکاٹ کریں۔انھوں نے ان بلڈرز کی بھی مذمت کی جو رہائشی عمارتوں کو بغیر فائر سیفٹی انتظامات کے تجارتی استعمال کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں فائر الارم، اسپرنکلر سسٹمز، ایمرجنسی ایگزٹ پلان اور سیفٹی ٹریننگ کو لازمی تقاضہ سمجھا جاتا ہے، لہٰذا پاکستان میں بھی ان اصولوں کو بلڈنگ کوڈز کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
سینئر وائس چیئرمین نے کہا کہ اگر حکومت نجی شعبہ اور تعمیراتی ادارے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو ہم اپنے شہروں کو خوبصورت ہی نہیں بلکہ محفوظ بھی بنا سکتے ہیں۔آباد کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ فائر سیفٹی آڈٹس لازمی قرار دیا جائے اور سیفٹی انجینئرنگ کو تعلیمی نصاب اور تعمیراتی پالیسیوں کا حصہ بنایا جائے۔انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنی عمارتوں کو صرف مضبوط نہیں بلکہ محفوظ بھی بنانا ہے، کیونکہ محفوظ عمارت ہی پائیدار ترقی کی علامت ہے۔ سید افضل حمید نے زور دیا کہ فائر سیفٹی کا تعلق صرف تکنیکی پہلوؤں سے نہیں بلکہ عوامی آگاہی اور تربیت سے بھی ہے۔ اسکولوں، دفاتر اور تعمیراتی مقامات پر سیفٹی کلچر کو فروغ دے کر کئی حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔
آخر میں انھوں نے این ایف ای ایچ کی گزشتہ 15 برسوں پر محیط کاوشوں کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ آباد محفوظ اور پائیدار تعمیرات کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ تقریب کے آخر میں 45 صنعتی، کاروباری اور کارپوریٹ اداروں کو بہترین حفاظتی انتظامات پر فائر ایوارڈز دیئے گئے۔
