ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025:غزہ میں جاری نسل کشی پربین الاقوامی فنکار آبدیدہ، آزادی کے لیے نعرے

ورلڈ کلچر فیسٹیول 2025:غزہ میں جاری نسل کشی پربین الاقوامی فنکار آبدیدہ، آزادی کے لیے نعرے

کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 39روزہ ”ورلڈ کلچر فیسٹیول“ کے چوتھے روز ورکشاپ، مباحثے، فلم اسکریننگ، مصوری اور تھیٹر کا انعقاد کیاگیا ، فیسٹیول میں ”Art as A Bridge“ کے عنوان سے ثقافتی فروغ کے لیے بصری فنون پر بحث و مباحثہ پر نشست کا اہتمام کیاگیا جس میں غزہ میں جاری نسل کشی پر گفتگو کرتے ہوئے بین الاقوامی فنکار آبدیدہ ہوگئے، بحث و مباحثہ میں ارجنٹینا کے فنکار ایڈریان بوجکو کی جانب سے فلسطین کی آزادی کے لیے نعرے لگائے گئے۔

کوموروس کے مصور یاز نے غزہ میں جاری نسل کشی پر گفتگو میں کہاکہ جب نسل کشی دیکھتا ہوں تو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ اگر ہم وہاں ہوتے تو ہمارے دلوں پر کیا گزرتی، قیمتی جانوں کے ضیاع پر مجھے رونا آتا ہے، کراچی میں اپنے آرٹ کو دکھانا میرے کلچر کا ایک حصہ ہے، مجھے کراچی اور یہاں کے لوگوں سے بہت محبت ہے، میں ویسے اتنا زیادہ بولتا نہیں لیکن کراچی والوں کے لیے بول رہا ہوں، مجھے کراچی کے کھانے بہت پسند آئے، میں اپنا استاد خود ہوں جو مجھے سمجھ میں آتا ہے میں اس کو بناتا ہوں، میں خوشی ، اداسی کے ساتھ جیسا محسوس کرتا ہوں اسے اپنے قلم کے ذریعے تصویر کی شکل دے دیتا ہوں، مجھے اپنے پین سے بہت محبت ہے جو ہمیشہ میرا ساتھ دیتا ہے۔

ارجنٹینا کے فنکار ایڈریان بوجکو نے کہاکہ دنیا بدل رہی ہے ، ہمارے پاس بہت مسائل ہیں، تشدد ہو رہا ہے، میں یہاں آنے والے تمام نوجوانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرا کام دیکھ کر مجھے سراہا، آرٹس کونسل کی ٹیم نے رابطہ کیا، میں یہاں آنے کے لیے پرخوش تھا ، کراچی کے لوگ بہت پیار کرنے والے لوگ ہیں، غزہ میں جاری نسل کشی پر ارجنٹینا کے مصور ایڈریان بوجکو نے ” فلسطین کی آزادی “ کے لیے نعرے لگائے۔ سو ئیڈن کی مصورہ ڈومی فوریسٹ (Domi Forest) نے کہاکہ میں نسل کشی ، جنگ ، بچوں کے ساتھ زیادتی جیسے واقعات کے بارے میں سنتی ہوں تو میرا دل دکھتا ہے، آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے طلباءاپنے کام میں بہت زیادہ اچھے ہیں، میں بہت سفر کرتی ہوں، زبان میں کمیونی کیشن کرنا مشکل نہیں ہوتا، مجھے میرے کام کا نشہ ہے، میرے لیے سب چیزیں ایک آرٹ ہے، انسان اور اس کی عادت آرٹ کا حصہ ہے۔

ورلڈ کلچر فیسٹیول میں شرکت کرنا بہت اچھا اور خوب صورت تجربہ ہے جس کو میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتی۔بنگلہ دیشی مصورہ نہاریکا ممتاز نے کہاکہ آرٹ ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے، آرٹ کی کوئی زبان نہیں ہوتی، میں کسی کہانی کے بغیر آرٹ نہیں بناتی، آرٹ مختلف ثقافتوں کو جوڑنے کا کام کرتا ہے، کوئی آرٹسٹ نسل کشی اور جنگ نہیں چاہتا، میں اپنے ساتھ اپنا ہیرٹیج ٹیکسٹائل آرٹ بنگلہ دیش کے تین مختلف مصوروں اور ٹیکسٹائل ڈیزائنرز کا کام لے کر آئی ہوں، ورلڈ کلچر فیسٹیول کا حصہ بننے پر بہت خوشی ہے، ہم بنگلہ دیش کی خوبصورت ثقافت کو ورلڈ کلچر فیسٹیول کے ذریعے پاکستان میں سلیبریٹ کر رہے ہیں۔ ورلڈ کلچر فیسٹیول کا آغاز تھیٹر ورکشاپ سے کیاگیا، Crik Bizart میں فرانس کے فنکاروں نے آرٹس کونسل کے طلباءسمیت ورکشاپ میں شریک لوگوں کو اداکاری کے گُر سکھائے، جبکہ جیولری اور ٹیکسٹائل پر بنگلہ دیش کی مصورہ نیہاریکا ممتاز نے "Me and My Work” پر اپنے کام سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کیں۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے بنگلہ دیش کے ثقافتی ورثہ کو دوحا، نائیجیریا، استنبول ، دبئی سمیت کئی ممالک میں متعارف کرایا، دبئی میں ہونے والے جیولری فیشن ویک میں جیولری ڈیزائن کے نمونے پیش کیے، فیشن شو میں جیولری کا کام بہت پسند کیاگیا، انہوں نے بتایا کہ ورلڈ کلچر فیسٹیول کے ذریعے پاکستان میں بنگلہ دیشی ثقافت کو فروغ دینے کا موقع ملا جس پر میں آرٹس کونسل کی شکر گزار ہوں۔ فلم اسکریننگ میں ”ورثہ اور یادداشت“ پر دو مختصر فلمیں دکھائی گئیں جن میں مریم بہرولومی کی ایرانی فیچر فلم ”ارجنٹ کٹ آف“اور ناروے کی (Katarina Sjåfjell) Return to the Sky شامل تھیں۔ اسٹوڈیوIIمیں ڈانس ورکشاپ کا انعقاد کیاگیا جس میں کونگو اسٹریٹ ڈانسرز نے انوکھے انداز میں ڈانس کرنے کا طریقہ بتایا۔ ورکشاپ میں ناروے کی تھیٹر آرٹسٹ Karen Houge ، معروف رقاصہ نگہت چوہدری سمیت معروف رقاص مانی چاو ¿ نے بھی شرکت کی ، کانگو کے اسٹریٹ ڈانسرز کا جوش دیکھ کر آرٹس کونسل کے طلباءسمیت وہاں موجود لوگوں نے بھرپور انداز میں ڈانس پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں