پاکستان نے امریکا کو اپنی سرزمین سے افغانستان پر حملوں کی کوئی اجازت نہیں دی:آئی ایس پی آر
راولپنڈی: ترجمان پاک فوج ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نےکہا ہےکہ پاکستان نے امریکا کو اپنی سرزمین سے افغانستان پر حملوں کی کوئی اجازت نہیں دی، ایسی خبریں افغانستان کا پراپیگنڈا ہے۔
صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکا کو افغانستان پر حملے کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دی
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ امریکی ڈرونز کے ذریعے پاکستان سے افغانستان میں حملے کا الزام جھوٹا ہے، نہ ہمارا امریکا کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ ہےکہ امریکا پاکستان سے ڈرون کے ذریعے افغانستان میں کارروائی کرے، افغان میڈیا بھارتی میڈیا کے ساتھ مل کر فیک ویڈیوز پھیلا رہا ہے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق افغان طالبان کے ساتھ ہم اب بھی مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں، دوحہ اور استنبول مذاکرات میں ایک نکاتی ایجنڈے پربات ہوئی، افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ مذاکرات کا ایجنڈا تھا، اس وقت مسئلےکی وجہ افغان طالبان کا دوحہ معاہدے پر عمل نہ کرنا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دوحہ میں طالبان نے امریکا سے معاہدہ میں طےکیا کہ لویا جرگہ بلایا جائےگا اور لویا جرگہ کے ذریعے افغانستان میں نمائندہ حکومت لائی جائےگی، طالبان نے وعدہ پورا نہیں کیا، مسئلےکا حل افغانستان میں نمائندہ حکومت ہے۔ ہمارا افغان طالبان قیادت کے رویے سے اختلاف ہے، انہوں نے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کی۔
صحافیوں سےگفتگو ہم امن چاہتے ہیں، مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں، مذاکرات سے مسئلہ حل نہ ہوا تو پھر ہم خود حل کرنے کی کوشش کریں گے، چند دن میں ثابت بھی کیا کہ ہم یہ مسئلہ خود حل کرسکتے ہیں، ہم نے کچھ ثالثوں کی درخواست پر امن کو ایک چانس دیا، بہتر ہے کہ افغان طالبان پرامن مذاکرات سے مسئلہ حل کریں، مذاکرات سے مسئلہ حل کریں ورنہ ہم دوسرے طریقے سے بھی حل کرسکتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے طالبان سے متعلق ثبوت سینئر صحافیوں کے ساتھ شیئرکرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی میں افغان فوج کے سپاہی بھی ملوث ہیں، تین چار ماہ کی ان جھڑپوں میں 112 خارجی مارے گئے، ان کارروائیوں میں افغان فوج کے 206سپاہی بھی مارے گئے، سرحدی علاقوں میں مارے گئے دہشت گردوں میں بڑی تعداد افغان شہریوں کی تھی، افغان طالبان، بی ایل اے اور خوارجیوں کے ٹھکانوں کو بارڈر ایریا سے رہائشی علاقوں میں منتقل کر رہے ہیں،بلوچستان میں جو دہشت گرد ایکٹیو ہیں ان کو بھی افغانستان میں ٹھکانے مہیا کیےگئے، بارڈر ایریا سے رہائشی علاقوں میں منتقلی کا مقصد دہشت گردوں کو ہیومن شیلڈ فراہم کرنا ہے۔
ترجمان پاک فوج نے سال 2025 میں اب تک کیےگئے انسداد دہشت گردی آپریشنز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سال 2025 میں 62 ہزار 113 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیےگئے، 208 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز روزانہ کی بنیاد پر کیےگئے، سال 2025 میں اب تک 4ہزار 373 دہشت گردی کے واقعات ہوئے، رواں سال اب تک 1ہزار 667 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، ہلاک دہشت گردوں میں 128 افغان باشندے بھی تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا نارکو اکنامی سے تعلق ہے، خیبرپختونخوا میں 12 ہزار ایکڑ پر پوست کاشت کی گئی ہے، فی ایکڑ پوست پر منافع 18 لاکھ سے 32 لاکھ روپے بتایا جاتا ہے، مقامی سیاستدان اور لوگ بھی پوست کی کاشت میں ملوث ہیں، افغان طالبان اس لیے ان کو تحفظ دیتے ہیں کہ یہ پوست افغانستان جاتی ہے، افغانستان میں پھر اس پوست سے آئس اور دیگر منشات بنائی جاتی ہیں، تیراہ میں آپریشن کی وجہ سے یہاں افیون کی فصل تباہ کی گئی، وادی میں ڈرونز، اے این ایف اور ایف سی کے ذریعے پوست تلف کی گئی۔ دہشت گرد نان کسٹم پیڈ گاڑیوں، ایرانی تیل کی اسمگلنگ سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں۔
