جو کام نہیں کرتے گھر بیٹھیں:صوبائی وزیر صحت سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے افسران پر برہم

جو کام نہیں کرتے گھر بیٹھیں:صوبائی وزیر صحت سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے افسران پر برہم

نواب شاہ: صوبائی وزیر صحت و بہبود آبادی ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی زیر صدارت ضلع شہید بینظیرآباد میں صحت عامہ کے مسائل اور محکمہ صحت کی کارکردگی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی جانب سے وبائی امراض، ڈینگی، ملیریا اور ایچ آئی وی/ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسز پرتفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پرصوبائی وزیر صحت نےضلع میں غیر قانونی لیبارٹریوں، بلڈ بینکوں اور نجی میڈیکل سینٹروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر ہیلتھ کیئر کمیشن اور محکمہ صحت کے افسران پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے سخت ہدایات دی کہ محکمہ صحت کی کارکردگی کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے ۔ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور ہیلتھ کیئر کمیشن کے افسران ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر فوری طور پر غیر قانونی لیبارٹریوں، میڈیکل سینٹروں، کینولا سینٹروں، بلڈ بینکوں اور سرجیکل اسٹورز کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن تیز کریں۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ غیر قانونی لیبارٹریوں، عطائی ڈاکٹروں اور غیر منظور شدہ میڈیکل سینٹروں کو عوام کی صحت کے ساتھ کھیلنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ ملیریا اور ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسز پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ عوام کو معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنا سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے افسران کو تنبیہ کی کہ خراب کارکردگی دکھانے والے افسران کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

اجلاس میں ڈائریکٹر سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن ڈاکٹر زبیر، ڈپٹی کمشنر شہید بینظیرآباد عبدالصمد نظامانی، ایس ایس پی شبیر احمد سیٹھار، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گلشن میمن، ایم ایس ڈاکٹر یار علی جمالي، انفارمیشن آفیسر شیر محمد جمالي سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں