ہمارہ مقابلہ کسی صوبے یا شہر سے نہیں بلکہ دنیا سے ہے:بلاول
کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام غزہ میں ہونے والے ظلم اور بچوں کی تاریخی نسل کشی پر سینیٹر میاں رضا ربانی کی کتاب ”The Smile Snatchers“ کی تقریب رونمائی آڈیٹوریم ون میں منعقد کی گئی جس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ،صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی محمد احمد شاہ، گورنر کے پی کے فیصل کریم کنڈی ،سینئر رہنما پیپلز پارٹی سید قائم علی شاہ،نثار کھوڑو، نجمی عالم، وقار مہدی ، صوبائی وزیر سعید غنی، ذوالفقار علی شاہ، شیری رحمن ،غلام مصطفی شاہ ، معروف ادیبہ نور الہدیٰ شاہ،صحافی غازی صلاح الدین ، انیس ہارون ، صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی اور اے ایچ خانزادہ سمیت معروف سیاسی ، سماجی و ادبی شخصیات بھی موجود تھیں۔
تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ہما میر نے انجام دیے، ابتدائیہ کلمات میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ بلاول بھٹو زرداری سمیت تمام پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام سینئر رہنما کو خوش آمدید کہتا ہوں، رضا ربانی پہلے بھی دو کتابیں لکھ چکے ہیں اور پارٹی کے سینئر رہنما بھی ہیں، ان کی کتاب بغور بڑھی تو اندازہ ہوا The Smile Snatchersکیا ہے، ان کی کتاب غزہ کے مظلوم بچوں کی کہانی ہے، انہوں نے دنیا میں بچوں، عورتوں اور انسانی ظلم پر لکھا ہے، رضا ربانی اپنی کہانیوں میں عام غریب بچوں کے لیے لکھ رہے ہیں ان کو پتا ہے کہانی کو کس طرح لے کر چلنا ہے، بلاول بھٹو کا تعاون ہمیشہ رضا ربانی کے ساتھ رہاہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جو کتاب لکھتے ہیں وہ تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، آج رضا ربانی نے اپنی کتاب غزہ کے بچوں کے نام لکھی ہے ، ہم نے غزہ میں بچوں کی سب سے بڑی تاریخی نسل کشی بھی ہے، اسی حساب سے رضا ربانی نے اس کتاب کو بچوں سے منسوب کیا ہے لیکن یہ نسل کشی تو صحافیوں کی اور ڈاکٹرز کی بھی تھی ، کل وہاں امن معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے یہ اس ملک نے سب سے زیادہ معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پوری مسلم امت اس معاہدے کو غور سے دیکھے کہ کہ اسے توڑا نہ جائے ، میں حکومت کی خارجہ پالیسی بالخصوص فلسطین کے معاملے اور وزیر اعظم کی امن موجودگی اور صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم کو دعوت دی جو سب نے دیکھا ، ان سب کے باوجود ایک خطرہ اور بے چینی موجود ہے کہ اس بار بھی دھوکہ دہی نہ کی جائے، انہوں نے کہاکہ رضا ربانی نے فکشن پر جو کتاب لکھی ہے یہ انہوں نے تاریخ میں اپنا کردار ادا کیا ہے جو کتاب لکھتے ہیں وہ تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ، شہید بے نظیر بھٹو نے بھی خود کتاب لکھی اور دوسروں کو بھی تاکید کرتی تھیں، میں بھی پارٹی کے سینئر لوگوں سے درخواست کرتا رہتا ہوں کہ وہ بھی اپنے تجربات کی بنیاد پر کتاب لکھیں، قائم علی شاہ کو یہاں دیکھ کر خوشی ہوئی، یہ ہمارے سینئر ساتھی اور سابق وزیراعلیٰ ہیں
انہوں نے بتایا کہ آج ٹوئٹ کیا ہے کہ خیرپور میں ایک اکنامک زون ہے جو قائم علی شاہ کے دور میں شروع کیا تھا ، فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں خیر پور اکنامک زون کو بہترین اکنامک زون میں شامل کیا گیا ہے ، میں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کا مقابلہ کسی اور شہر یا صوبے سے نہیں ، ہم دنیا سے مقابلے کرنے والے لوگ ہیں ، یہ سندھ حکومت کا ایک کارنامہ ہے جو دنیا نے مانا ہے مگر اس سے پہلے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ متعارف کروائی، اس سے پہلے اکنامکسٹ نے اس پی پی پی منصوبے کو چھٹے نمبر پر رکھا وہاں ہم دنیا سے مقابلہ کررہے تھے، ہمیں تقسیم نہیں ہونا چاہیے بلکہ فخر کرنا چاہیے، آپ پاکستان کے کسی بھی شہر سے تعلق رکھتے ہوں اس پر ہمیں فخر ہونا چاہیے ، ہمارا این آئی سی وی ڈی مفت علاج کرتا ہے اس کا مقابلہ بھی دنیا سے ہے کسی اور سے نہیں ، سائبر نائف مہنگا ترین علاج دنیا میں کہیں مفت ہے تو صرف کراچی میں ، یہ بھی پاکستان کی کامیابی ہے جیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک کارنامہ ہے جسے دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ بہترین طریقہ ہے غریب ترین لوگوں کو مدد کرنے کا ، پاکستان حکومت کے پاس یہ واحد طریقہ ہے جو کسی بھی بحران میں غریب لوگوں کو مدد فراہم کرسکتے ہیں ، کورونا دور میں خان نے اس کا نام احساس رکھا لیکن نام تبدیل کرو یا تصویر اس ادارے سے فائدہ اٹھایا، پاکستان کی تاریخ میں 2022میں سیلاب آیا ، پنجاب میں بھی سیلاب سے نقصان ہوا اس وقت شہباز شریف نے بھی مالی مدد پہنچانے کے لیے اسکا استعمال کیا، سیلاب میں لاکھوں گھر اور اسکولز تباہ ہوئے، موسمیاتی تبدیلی کا جو نقصان ہمیں ملا ہم اس کے ذمہ دار نہیں ، بڑے ممالک اس کے ذمہ دار ہیں، ہم نے دنیا کو منالیا تھا کہ سیلاب فنڈ بھیک نہیں ہمارا حق ہے ، ہم بیس لاکھ گھر بنارہے جو دنیا کا سب سے بڑا گھروں کا منصوبہ ہے ، ہم کسی اور سے نہیں بلکہ دنیا سے مقابلہ کررہے ہیں، اس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے لینڈ ریفارم کرکے غریبوں کو زمین کا حق دیا، ہم سیاست تاریخ رقم کرنے اور عزت کے لیے کرتے ہیں۔
