
کراچی(رپورٹ: فرحان تنیو) "پلاسٹک کی بے دریغ پیداوار اور استعمال ماحول، جنگلی حیات ،ایکوسسٹم اور انسانی صحت کے لئے سنگین خطرات کی حامل ہے ۔پاکستان میں پلاسٹک کی پیداوار میں بڑھتا ہوا اضافہ اور اسے ٹھکانے لگانے کے طریقہ کار پر نظرثانی کی اشد ضرورت ہے ۔”
یہ پیغام اُن تمام مقررین کے جانب سے دیا گیا جو ایک تربیتی ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے ۔GMI نے اینگروفاؤنڈیشن اور WWF پاکستان کے تعاون سے مقامی ہوٹل میں ایک تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا ۔عالمی ماحولیات کے دن کی مناسبت سے اس ورکشاپ کا بنیادی تصور "پلاسٹک پولیوشن سے نجات ہے "۔ اس ورکشاپ کا مقصد خواتین صحافیوں میں اس شعور کو اجاگر کرنا تھا کہ وہ کس طرح حقائق پر مبنی ماحولیاتی کہانیوں کو قلم بند کریں جو پلاسٹک پولیوشن سے دنیا بھر میں اثر انداز ہو رہیں ہیں۔مقررین نے ایسے قوانین اور ضوابط لاگو کرنے کی اہمیت پرزور دیا جن کے باعث ملک بھر کےدیہی اور شہری علاقوں میں پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آلودگی کا سدِباب کیا جا سکے ۔

CEO گرین میڈیا انیشیٹو اور ماحولیاتی صحافی، شبینہ فراز نے کہا پاکستان میں پلاسٹک کی آلودگی اور اس کے مضر اثرات کا شکار خواتین سب سے زیادہ ہوتی ہیں ۔انہوں نے بتایا سندھ اور بلوچستان کے سمندروں میں ہونے والی آلودگی وہاںکام کرنے والی خواتین کی زندگیوں ،صحت اور کام کرنے کی استعدادکو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے ۔انہوں نے اس بات پرزور دیا کہ خواتین صحافی ایسی اسٹوری تیار کریں جو حقائق پر مبنی اور فیلڈاسٹوری ہوں جس میںصحت پر ہونے والے اثرات کو اجاگر کیا جائے اور جو حکومت اور پالیسی سازوںکو یہ سوچنے پر مجبور کرے کہ ان خطرات سے نمٹنے کے لئے کیسے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں ۔”یہی وہ وقت ہے کہ جب پلاسٹک کی آلودگی کو روکنے کے لئے وسیع پیمانہ پر ایکشن پلان اور اقدامات کرنےکی اشد ضرورت ہے ۔پلاسٹک کے کچرے کا بنیادی خطرہ انسانی اور جنگلی حیات دونوں کوہی درپیش ہے ۔سمندری حیات بھی پلاسٹک کی تباہ کاریوں کا شکار ہیں ۔پلاسٹک کا ہر ٹکڑا کہیں نہ کہیں موجود رہتا ہے جس کے باعث ہماری دنیا ایک بڑا پلاسٹک کا کچرا خانہ بنتی جارہی ہے ۔انہوں نے دیگر تنظیموں اور عوام الناس کو مل کر ماحولیات کے لئے کام کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔
ہیڈآف اینگرو فاؤنڈیشن، فواد سومرو نے کہا ” اقوام متحدہ کے مطابق 3.3 ملین ٹن سے زیادہ پلاسٹک کا کچرا لینڈفل سائٹ یا کچراکنڈیوں پر بےدھیانی میں ڈالا جاتا ہے جس سے ماحول اور عوام کی صحت دونوں متاثر ہوتے ہیں ۔لہذا اینگرو سرکیولر پلاسٹکس پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ جو تعلیمی اداروں سماجی کارکنوں اور بنیادی سطح کی تنظیموں کے ساتھ مل کر ملک میں پلاسٹک کے کم استعمال کو فروغ دےرہیں ہیں ۔ "

منیجر، میرین پروگرام WWF پاکستان ،جواد عمر خان نے کہا کہ اس سال ماحولیات کا دن پلاسٹک سے نجات کے دن کے طور پر منایا جارہا ہے ۔ہمیں فطرت کو ازسرنو نکھارنے اور سنوارنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ہمیں اس عزم کا اعادہ کرنا ہے کہ ہم پلاسٹک کی ری سائیکلنگ اور دوبارہ استعمال کی جانب دھیان دیں گے ۔اور بائیوگریڈ ایبل پلاسٹک کے استعمال کو فروغ دیں گے ۔”آئیے مل کر شجرکاری کریں تاکہ ہمارے شہر سرسبز ہوجائیں ،اپنی خوراک کو تبدیل کریں اور سمندروں ،دریاؤں اور ساحلوں کو صاف رکھیں تاکہ پلاسٹک سے صاف ماحول کو فروغ دیا جا سکے ۔”
نیشنل سینٹربرائے آرٹیفیشل انٹیلی جینس اینڈ اسمارٹ سٹی لیب NEDیونیورسٹی کےپروفیسر ڈاکٹر محمد خرم نے کہاکہ” گورنمنٹ کو ایسے قوانین و ضوابط لاگو کرنے چاہئے اور ایسی پالیسیاں بنانی چاہئے جن سے عام آدمی ،دیگر اسٹیک ہولڈرز ،سول سوسائٹی ،میڈیا ،انڈسٹری ،تعلیمی درسگاہیں مل کر پلاسٹک پولیوشن کے خاتمے کے لئے کام کر سکیں ۔انہوں نے اپنی بنائی ہوئی ایک ایسی مشین کے بارے میں بتایا جو پلاسٹک کو ری سائیکل کرتی ہے ۔”

سینئرصحافی اور ترک خبر رساں ایجنسی انادولو کے نمائندہ عامر لطیف نےکہاکہ "ماحولیاتی مسائل سے آگاہی کے لئے خواتین صحافیوں کا ، ماحول سے متعلق جاننا بہت ضروری ہے ۔ماحول کے مسائل خواتین پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں ایک عام صحافی اور ماحولیاتی صحافی کی سوچ میں بہت فرق ہوتا ہے پاکستان میں ماحولیات پر کام کرنے والی خواتین صحافیوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔
