محنت کش ووٹ کی پرچی سے اداروں میں غیر آئینی اور غیر منصفانہ پالیسیوں کا خاتمہ کرسکتے ہیں: لیاقت ساہی
کراچی: ڈیموکریٹک ورکرز یونین ( سی بی اے) اسٹیٹ بینک آف پاکستان ، بی ایس سی کے انٹرنل الیکشن جو کہ این آئی آر سی کے ذریعے دو سیٹوں پر ہوئے ہیں دیگر عہدیدار پہلے ہی بلامقابلہ منتخب ہو چکے ہیں جس میں ملک کے معروف مزدور رہنما لیاقت علی ساہی سیکریٹری جنرل ا ور صدر کیلئے جناب عامر خان کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرکے ٹریڈ یونین میں نئی تاریخ رقم کی ہے
اس موقع پر لیا قت علی ساہی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی آر اے 2012 کی کلاز 8(1)(d) کے تحت 25 فیصد آوٹ سائیڈر کوٹے پر الیکشن ہوا ہے جس میںورکرز نے مثبت کردار اداکرکے ٹریڈ یونین کو مضبوط کیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بینکنگ انڈسٹری میں ٹریڈ یونین کو ختم کرنے اور محنت کشوں کو نہتے کرنے کیلئے1997 ء میں وفاقی حکومت نے کمپنی آرڈیننس 1962 میں ترمیم کرکے 27-B کو پارلیمنٹ کی سطح پر منظور کرکے بینکنگ انڈسٹری کے محنت کشوں آؤٹ سائیڈر کوٹے سے محروم کرکے بینکنگ انڈسٹری میں ٹریڈ یونین کو بیگار کمپ بنادیا ہے ،کلریکل اور نان کلریکل کیڈرزمیں مستقل بھرتیوں کے بجائے کنٹریکٹ اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ کے ذریعے بھرتیاں کرکے ٹریڈ یونین کوبینکنگ انڈسٹری کی انتظامیہ نے ختم کردیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ملکی سطح پر تمام دفاترز میں لوکل یویونینز ہوا کرتی تھی جو کمزور پوزیشن میں تھیں اس کے خلاف ہم نے ملکی سطح پر انڈسٹری وائز یونین 1995 میں این آئی آر سی سے رجسٹرڈ کروا کر انڈسٹری وائز یونین کی بنیاد رکھی تھی اور پانچ سال سی بی یو کا مقدمہ لڑ کر اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں تمام محنت کشوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر نے میں کامیاب ہوئے تھے۔
بینکنگ انڈسٹری میں پہلی سی بی اے یونین انڈسٹری وائز بنی تھی جس کی وجہ سے 2019 میں قانونی چارہ جوئی کرکے کنٹریکٹ ورکرز کو ووٹ کا حق دلانے میں کامیاب ہوئے تھے۔
اسٹیٹ بینک اور بی ایس سی میں کمپنی آرڈیننس نافذ العمل نہیں ہے جس کی وجہ سے میںنے آؤٹ سائیڈر کوٹے پر ٹریڈ یونین یونین کو ریٹا ئرمنٹ کے بعد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا لیکن کچھ ٹاؤٹ انتظامیہ کی سہولتکار ی کرتے ہوئے منفی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جن کی منفی سوچ کو ورکرز نے ووٹ کی پرچی زمین بوس کر دیا ہے ٹریڈ یونین کی تاریخ میں آؤٹ سائیڈر 25 فیصدپر دوعہدوں پر 26 ستمبر2025 کو الیکشن ہوا جس میں ورکرز نے 592 ووٹرز میں سے 433 ووٹ دے کر تاریخ رقم کر دی جبکہ مخالف امیدوار کو صرف30 ووٹ ملے ہیں جو کہ ٹریڈ یونین میں ٹاؤٹی کو بد ترین شکست ہے اور جدوجہد کی تحریک کی تاریخ ساز کامیابی ہے جب ورکرز ووٹ کی پرچی سے ورکرز اور ٹریڈ یونین کو مضبوط کرتے ہیں تو ادارے میں صحت مند ٹریڈ یونین کو فروغ ملتا اور ورکرز کے آئینی او رقانونی حقوق کی فراہمی یقینی بن جاتی ہے موجودہ حالات میں ملک بھر کے اداروں میں کنٹریکٹ اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ کے خلاف متحد ہوکر جدوجہد کرنی ہوگی ہم ورکرز کا شکریہ ادا کرتے ہیں انہوں نے ہم پر اعتماد کیا ہے۔
