وفاقی حکومت زرعی ایمرجنسی کے تحت آئی ایم ایف سے بات کرے: بلاول بھٹو زرداری

وفاقی حکومت زرعی ایمرجنسی کے تحت آئی ایم ایف سے بات کرے: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی عالمی مدد مانگنی چاہیے تھی،قدرتی آفات سے نمٹنا کسی ایک حکومت کا کام نیہں۔،پاکستان کو تاریخ کی بدترین سیلاب کا سامنہ کرنا پڑا

پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سیلاب کے باعث مستقبل میں فوڈ سکیورٹی کو خطرہ ہوسکتا ہےاپنے وسائیل اپنے کسانوں پر استعمال کیے جائیں، سیلاب متاثرین کی مدد کرینگے، وزیراعظم کے شکر گذار ہیں کے ایمرجنسی لگائی اور بجلی کے بل معاف کیے

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی وزیراعلیٰ ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے سیلاب متاثرین کو بی آئی ایس پی کے ذریعے امداد دینے کی درخواست کی تھی،ہم نے بل معاف کرنے کی بات کی تھی، وفاقی حکومت کے شکر گذار ہیں کہ انہوں نے بل معاف کیے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت سندھ نے بےنظیر ہاری کارڈ کے ذریعے چھوٹے کاشت کاروں کی مدد کا فیصلہ کیا ہے، کسانوں کی ڈی اے پی اور یوریا کی خریداری میں مدد کریں گے۔امید ہے جلد یہ سلسلہ شروع ہو جائےگا۔گندم کے کاشت کاروں کی مدد کریں گے تاکہ گندم درآمد کرنی نہ پڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ گندم امپورٹ کرنے پر پاکستان کا پیشہ باہر جاتا ہے۔اس سے بہتر ہے کہ وہ پیسہ اپنے کسانوں پر خرچ کریں اور امپورٹ کی بجائے گندم ایکسپورٹ کریں۔وفاقی حکومت اگر ہمیں سپورٹ کرے تو مدد میں اضافہ کرسکتے ہیں،وفاقی حکومت زرعی ایمرجنسی کے تحت آئی ایم ایف سے بات کرے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ گندم خریداری اور امدادی قیمت نہ دینے کے معاملے پر آئی ایم ایف سے بات کرے۔ٹیکس کی مد میں بھی کسانوں کو ریلیف دیا جائے۔صوبہ پنجاب خصوصاً جنوبی پنجاب میں نقصان بہت زیادہ ہے۔پنجاب حکومت کی تعریف کرتا ہوں کہ انہوں نے کسانوں کے نقصانات پورے کرنے کا اعلان کیا ہے۔لیکن سیلاب کے دوران کسانوں کی مدد بہت ضروری ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آگے آپ کیا کریں گے وہ ٹھیک ہے لیکن آج آپ کیا کر رہے ہیں سوال یہ ہے،کسانوں کو آج بھی بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے زریعے کسانوں کی مدد کرے،وفاقی حکومت پہ یہ ذمہ داری ہے کہ پنجاب، گلگت بلتستان اور کے پی میں کسانوں کی بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ریلیف دے۔پچھلے سیلاب میں بھی وفاقی حکومت نے یہی کام کیا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ کووڈ کی وبا کے دوران بھی ہم نے یہی کیا تھا، آج اگر یہ نہیں کیا جا رہا تو میرا سوال ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام کا قصور کیا ہے،وفاقی حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور متاثرین کو امداد دے،وفاقی حکومت کو فوری طور پر عالمی امدادی اداروں سے مدد کی اپیل کرنی چاہیے تھی۔میں تنقید نہیں کر رہا، وفاقی حکومت کوششیں کر ررہی ہوگی لیکن اگر اپیل ہوتی تو مدد کا حجم بڑھ جاتا۔ماضی میں ہر مصیبت میں وفاقی حکومت نے عالمی امداد کےلیے اپیل کی تھی۔

دوران پریس کانفرنس بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عالمی امداد کرنا پنجاب حکومت کی ذمہ داری نہیں، یہ وفاق کا کام ہے۔وفاقی حکومت یہ اپیل کیوں نہیں کر رہی، یہ سوال بھی ان ہی سے کیا جائے۔ایم کیو ایم والوں کو ملنے کا وقت ضرور دیں گے۔سیلاب میں ریسکیو اور ریلیف پہلا مرحلہ ہوتا ہے،ری ہیبلی ٹیشن دوسرا مرحلہ ہوتا ہے۔سندھ کے سیلاب میں ہم نے وفاق کی مدد سے متاثرین کو گھر بنا کردیے۔امید ہے وفاقی حکومت دیگر صوبوں میں بھی یہی کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ اچھا معاہدہ ہے، ہر جگہ سے اس کی تعریف ہو رہی ہے،حنا ربانی کھر کی سربراہی میں فارن کمیٹی نے ایک اجلاس شیڈول کیا ہے،ان کیمرہ بریفنگ کی بھی بات  ہو رہی ہے،ہم اپنی پارلیمانی ذمہ داری پوری کریں گے،فلسطین کے موضوع پر جس طرح اس مرتبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بات ہوئی۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطینی عوام کی جدوجہد رنگ لا رہی ہے۔اسرائیلی حملوں کے اثرات پاک سعودی معاہدوں کی صورت میں نظر آ رہے ہیں۔امید ہے عرب اور اسرائیل کے حامی ممالک بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں گے۔

پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام ہم نے اس وقت متعارف کرایا جب ن لیگ حکومت میں تھی،ن لیگ کے تمام رہنما مسلسل اس پروگرام کی تعریف کرتے آ رہے ہیں،اگر ن لیگ نے اس پر یوٹرن لیا  ہے تو ان سے پوچھا جائے،اس پروگرام کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں