وفاقی حکومت عقل کے ناخن لے اور اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کرے:شرجیل انعام میمن
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بنے تو یہ بات سامنے آئے گی پنچاب میں زیادہ نقصان منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث ہوا، سندھ میں ہم نے انتظامی معاملات کو بہتر بنا کر صورتحال کو قابو میں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بڑے منصوبوں میں مسائل آتے ہیں۔ یہاں پہلے سوئی گیس کا مسئلہ تھا، اب کے الیکٹرک کا مسئلہ ہے،ٹارگٹ پہلے کا تھا، مکمل ہو جاتا لیکن اداروں سے بات چیت ہو رہی ہے۔حکومت نے ایکشن لیا ہے۔ رات صحافی پر حملہ ہوا، اس پر حکومت کام کر رہی ہے،تین خواجہ سراؤں کے قتل پر تحقیقات جاری ہیں
انہوں نے کہا کہ پاک چین دورے میں زراعت اور انرجی سیکٹر پر اہم پیش رفت ہوئی ہے،پنجاب میں سیلاب متاثرین کی بحالی اہم ہے،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے۔پاکستان میں گندم کی قلت ہے۔ 1.2 بلین ڈالر کی گندم درآمد کرنا پڑے گی۔اگر یہی سبسڈی کسان کو دی جاتی تو خوشحالی آتی اور زرمبادلہ بھی بچ جاتا۔
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ ہم حکومت کو سپورٹ کرتے ہیں، حکومت میں شامل نہیں ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے مسائل درپیش ہیں۔سندھ میں اب بھی بارہ لاکھ ٹن گندم موجود ہے۔وفاقی حکومت عقل کے ناخن لے اور اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کرے۔عظمیٰ بخاری کو کوئی جواب دینا نہیں چاہتا۔پنجاب میں کم تباہی ہوتی اگر بہتر منصوبہ بندی کرتے۔
سینئر وزیر شرجیل انعام کا کہنا تھا کہ یلو لائن بی آر ٹی اسٹیٹ آف دی آرٹ منصوبہ ہے جو ورلڈ بینک کے تعاون سے بن رہا ہے۔یہ پل سینیٹر تاج مرحوم کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔اس پل کی تیاری آخری مراحل میں ہے، اگلے ہفتے مکمل ہو جائے گا۔اس ہفتے پنک اسکوٹی خواتین کو دی جائے گی۔ڈبل ڈیکر بسیں بھی جلد کراچی پہنچ جائیں گی۔صدر آصف علی زرداری کے ساتھ چین گئے تھے۔ای وی بسیں اور لال بسیں اب پاکستان میں تیار ہوں گی۔سی پیک کے اثرات پورے پاکستان پر آ رہے ہیں۔پاکستان کا معاشی پہیہ آگے بڑھایا جائے تاکہ ملک میں صنعتیں لگ سکیں۔فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بننے کے بعد پتہ چلے گا کہ پنجاب میں اس سے کم تباہی ہو سکتی تھی۔نا تجربہ کاری کی وجہ سے نقصان زیادہ ہوا۔
