سندھ میں ہزاروں پینشنرز کے ریکارڈ پر مبنی فائیل گم ہونے کا انکشاف
کراچی: سندھ کے مختلف محکموں کے 3 لاکھ 8 ہزار پینشنرز میں سے ہزاروں پینشنرز کے ریکارڈ پر مبنی فائیل گم ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ مختلف محکموں کے ہزاروں پینشنرز کے فائیل گم ہونے کی وجہ سے مشکوک پینشنرز کو پینشن جاری ہونے کا خدشہ ظاھر کیا گیا ہے۔
پی اے سی نے مشکوک پینشن جاری ہونے سے روکنے کے لئے سندھ کے تمام محکموں کو اپنے پینشنرز کے ریکارڈ پر مبنی فائیل متعلقہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسز میں ایک ماہ میں جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔
پینشنرز کے ریکارڈ پر مبنی فائیل جمع نہ کرانے والے مشکوک پینشنرز کی آئی ڈیز بلاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جمعے کے روز پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم میں ہوا۔اجلاس میں کمیٹی کے اراکین قاسم سراج سومرو، طاحہ احمد سمیت محکمہ خزانہ کے سیکریٹری فیاض جتوئی اور متعدد اضلاع کے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ خزانہ کی سال 2024 اور 2025ع کی آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں آڈٹ نے اعتراض اٹھایا کے ایس اے پی (سیپ) پیرول سسٹم کی اسکروٹنی کے دوران معلوم ہوا کے سینکڑوں انویلڈ شناختی کارڈز پر غیر تصدیق شدہ پینشن کی ادائگیاں کی جارہی ہیں اور ان پینشنرز کے شواہد کے کاغذات اور سی این آئی سیز نہیں دئے جا رہے ہیں جس وجہ سے شبہ ہے کے مشکوک پینشن جاری کی گئی ہیں۔ جس پر سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی نے پی اے سی کو بتایا کے سال 2021ع میں سندھ کے مختلف اضلاع میں پرانے فیملی پینشنرز کے یہ کیسز ہیں جن کیسز میں پینشنرز انتقال کرگئے تھے کیونکے پہلے شناختی کارڈ 9 ڈجٹ کا ہوتا اب شناختی کارڈ کے 13 ڈجٹ ہیں کیونکے جو پینشنرز انتقال کرگئے ان کے شناختی کارڈ پرانے 9 ڈجٹ پر مشتمل تھے اس لئے ان انتقال کر جانے والے پینشنرز کے نئے شناختی کارڈ کیسے بن سکتے ہیں اس کئے پینشن سیپ پیرول سسٹم جے ریکارڈ پر وہ پرانے شناختی کارڈ درج ہیں۔
کمیٹی رکن قاسم سومرو نت استفسار کیا کے سیپ کے سسٹم پر فیملی رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ کی شق کیوں نہیں شامل کی جا رہی ہے تاکے یہ شبہ ختم ہوسکے کے انتقال کرجانے والے پینشنرز کی پینشن ان کی بیواہ یا کسی گھر کے اصل فرد کو مل بھی رہی ہے یا نہیں؟ جس پر سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی نے بتایا کے سیپ سسٹم میں ایف آر سی سرٹیفیکیٹ کا کوئی شرط یا شق موجود نہیں ہے تاہم نادرا سے ایف آر سی کے لئے لنک حاصل کرنے کے متعلق بات ہوچکی ہے۔ سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی نے پی اے سی کو بتایا کے سندھ میں مختلف محکموں کت 3 لاکھ 8 ہزار سے زائد پینشنرز میں سے ہزاروں پینشنرز کے ریکارڈ پر ہر مبنی فائیل گم ہیں ان ہینشنرز میں اکثریت محکمہ تعلیم کے ہینشنرز کی ہے تاہم متلعقہ محکموں کو ان پینشنرز کے فائیل فراہم کرنے کے لئے لیٹر بھی لکھے جاچکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کے اب پینشن کا سسٹم راست اور مائیکرو پیمینٹ ٹیکنالاجی پر شفٹ کر رہے ہیں جس سے شفافیت برقرار رہے گی تاہم ملازمین کو تنخواہیں اب راست پیمنٹ سسٹم کے ذریعے براہ راست شروع کردی گئی ہیں۔پی اے سی اجلاس میں سندھ کے 9 اضلاع میں پینشن کے فنڈز میں 40 کروڑ روپے کے گھپلوں کا معاملہ بھی سامنے آیا جس میں سال 2021ع میں پینشن کے 40 کروڑ روپے کے غبن میں محکمہ خزانہ کے 16 افسران و ملازمین سمیت اے جی سندھ کے 3 ملازمین کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا جس پر محکمہ خزانہ نے پی اے سی کو پینشن کے غبن میں ملوث افسران و ملازمین کو ملازمت سے برطرف کرنے کی آگاہی۔
آئی جی ٹریزری نے پی اے سی کو بتایا کے دادو، میرپورخاص، جیکب آباد،گھوٹکی سمیت سندھ کے 9 اضلاع میں پینشن فنڈ میں 40 کروڑ روپے کا غبن ثابت ہوا جس غبن میں محکمہ خزانہ کے 16 ملازمیں جس میں سے ایک ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسر گھوٹکی بھی شامل تھا جبکے تین اے جی سندھ کے ملازمین ملوث پائے گئے ان کو ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے۔ سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی نے پی اے سی کو بتایا کے مختلف اضلاع میں پینشنرز کی جعلی آڈیز بناکر غبن کیا گیا اور تحقیقات کے دوران ان آڈیز کو بند کردیا گیا ہے اور ملوث افسر و ملازمین کو بھی نوکری سے برطرف کیا گیا ہے اجلاس میں 2021ع میں نوشھروفیروز سمیت مختلف اضلاع میں متعدد پینشنرز کو دو دو اور تین تین مرتبہ پینشن جاری ہونے کا بھی انکشاف سامنے آیا۔
ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسر نوشھروفیروز نے پی اے سی کو بتایا کے ضلعے کے مختلف محکموں کے پینشنرز کی 6 ہزار سے زائد فائلیں اور ریکارڈ موجود نہیں ہیں اور 14 ہزار پینشنرز کے کیسز کی تحقیقات جاری ہے تاہم جن 18 پینشنرز کو دو دو مرتبہ پینشن جاری ہوئی ان کی پنشن بند کردی گئی ہے۔ پی اے سی نے مشکوک پینشن جاری ہونے کے خدشے کے پیش نظر سندھ کے تمام محکموں کو اپنے پینشنرز کا ریکارڈ اور فائیل متعلقہ ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس دفاترز میں ایک ماہ میں جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ پینشنرز کے ریکارڈ پر مبنی فائیل جمع نہ کرانے والے مشکوک پینشنرز کی آئی ڈیز بلاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
