اسلامی دنیا کی مشترکہ دفاعی قوت ضروری ہے:مولانا فضل الرحمان

جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ اسلامی بلاک بنانے کی پہلی سیڑھی ہے ، جمعیت نے ہمیشہ کہا کہ سعودیہ اور پاکستان دنیا کے امت مسلمہ کی قیادت سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

کراچی: جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ اسلامی بلاک بنانے کی پہلی سیڑھی ہے ، جمعیت نے ہمیشہ کہا کہ سعودیہ اور پاکستان دنیا کے امت مسلمہ کی قیادت سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،ہم امن کیلئے میدان میں ہے اور ہر محاذ پر جے یو آئی عوام کی نمائندگی کرے گی، چاروں صوبوں میں اس طرح کے امن مارچ ہوں گے ،عوام کی سوچ اور الیکشن کا نتیجہ کچھ اور اب مزید نہیں چلے گا، ریاست کے اندر ریاست کے ہم قائل نہیں، میں صمود فوٹیلا قافلے کی بھرپور حمایت کرتا ہوں۔

سندھ امن مارچ 14 ستمبر کو کشمور کندھ کوٹ سے شروع ہوا تھا جو مختلف اضلاع سے ہوتا ہوا جمعرات کو کراچی پہنچا۔ شہر قائد میں ایئرپورٹ سے مولانا فضل الرحمٰن نے مارچ کی قیادت سنبھالی اور ان کی قیادت میں مارچ کے ہزاروں شرکاء سندھ اسمبلی چورنگی پر جلسہ گاہ میں پہنچے ، جلسہ عام سے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری،مرکزی ڈیجیٹل میڈیا کوآرڈینیٹر انجینئر ضیاء الرحمن، صوبائی امیر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، صوبائی جنرل سیکرٹری علامہ راشد محمود سومرو ، مفتی سعود افضل ہالیجوی ، قاری عثمان، مرکزی ترجمان اسلم غوری، مولانا سراج احمد امروٹی، مولانا سمیع سواتی، مولانا اسحاق لغاری،مولانا نورالحق ، قاضی فخر الحسن، مفتی خالد، مفتی عبدالحق عثمانی ، مولانا احسان اللہ ٹکروی اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر سینئر سیاستدان ڈاکٹر ابراہیم جتوئی، میر شاہزین خان بجارانی، سینیٹر عبدالقیوم سومرو ، میر پپو خان چاچڑ ، سردار شفیق خان کھوسو، میرمبین خان بلو ، مولانا ناصر محمود سومرو، رفیق احمد سومرو سمیت سینئر رہنما بھی شریک ہوئے۔ جلسے میں سندھ بھر سے بڑی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی اور سندھ اسمبلی سے فوارہ چوک تک پنڈال میں سرہی سر نظر آرہے تھے جبکہ بڑی تعداد میں کارکن میٹرو پول اور زینب مارکیٹ تک موجود تھے۔

جلسے سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم امن کیلئے میدان میں ہے اور ہر محاذ پر جے یو آئی عوام کی نمائندگی کرے گی، چاروں صوبوں میں اس طرح کے امن مارچ ہوں گے ، انشاءاللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔محبتوں کو فروغ دیا ہے ۔ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ کن کن راستوں میں ہمارے راستوں میں رکاوٹیں پیدا کی گئی،ہمارے مینڈیٹ کو چوری کیا گیا لیکن ہم نے صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا ، قوم اپنے خیر خواہ کو پہنچانے لگ گئی ہے ہم نے قوم کی رہنمائی کی ہے ،حقوق کے تحفظ کا اگر کوئی نظام ہے تو وہ اسلام کا نظام ہے، ہم نے دنیا کو بتایا کہ ہمیں امن چاہیے ، ہم نے یہودیت کا مقابلہ کیا اور یہودیت کے مقابلے میں اپنے مسلمان بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے اور جب قادیانیت نے پاکستان کے اندر سر اٹھانے کی کوشش کی تو جمعیت علماء اسلام نے انکی کمر ایسی توڑی کہ وہ دوبارہ کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سفارتی حوالے سے جب پاکستان کی بنیاد 1947 کو رکھی گئی تو پاکستان نے کہا کہ اسرائیل ایک ناجائز قبضہ گروہ ہے ،میں صمود فوٹیلا قافلے کی بھرپور حمایت کرتا ہوں جو پوری امت کی نمائندگی کررہا ہے ۔

مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا کہ وزیراعلیٰ کوبتادیں کہ امن کا بھیک مانگنے آئیں شاید آپ نہیں سن سکتے ہمیں امن چاہیے، اگر انصاف نہیں دے سکتے تو سول نافرمانی کا آپشن کھلا ہے،پورے پاکستان کی صورتحال ابتر ہے۔

علامہ راشد محمود سومرو نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ میں ہمیشہ جے یو آئی کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، اگر آئندہ الیکشن میں بھی ایسا ہوا تو مینڈیٹ چور ایوانوں میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔ انہوں نے کارکنان سے مخاطب ہوکر کہا کہ وہ سندھ اسمبلی اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے گھیراؤ کیلئے تیار رہیں،انہوں نے کراچی کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی مسائلستان بن چکا ہے، سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں، ہر ڈیپارٹمنٹ کو کھربوں روپے کے بجٹ دیے جاتے ہیں مگر عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔” راشد سومرو نے کہا کہ شہر میں اسٹریٹ کرائم نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے، سیکیورٹی ادارے اربوں کا بجٹ لینے کے باوجود شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔

انجینئر ضیاء الرحمن نے کہا کہ جس کشمور سے امن مارچ کا آغاز کیا گیا ہے اسی کشمور میں ہمارا مینڈیٹ چھینا گیا۔ صرف کشمور ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی ہمارا انتخابی مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو حرمین شریفین کی حفاظت کی سعادت ملی ہے لیکن اپنی عوام کو تحفظ نہ دینا ان کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ "اپنے شہریوں کو وہی امن دو جس طرح دنیا کے ساتھ امن کے معاہدے کیے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ ہم اس امن مارچ کے مطالبات میں انتخابی مینڈیٹ کی واپسی کا مطالبہ بھی شامل کررہے ہیں۔ "جو لوگ ان ڈاکوؤں کے مہرے بنے ہیں ہم مل کر ان مہروں کو جواب دیں گے۔ ہم ہی وہ لوگ ہیں جو اس سرزمین کو شاد و آباد بنائیں گے۔

راشد محمود سومرو نے اپنے خطاب کے اختتام پر اعلان کیا کہ "کراچی سے کشمور تک کچے اور پکے کے ڈاکوؤں کے خلاف مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں یہ جہدوجہد جاری رہے گی۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں