نعمت بیگم ہمدرد یونیورسٹی اسپتال انتظامیہ نے الزامات کی ترید کردی
کراچی: نعمت بیگم ہمدرد یونیورسٹی اسپتال کے خلاف گزشتہ رات سے سوشل میڈیا پر بے بنیاد اور من گھڑت پروپیگنڈا مہم جاری ہے جس میں یہ الزام عائد کیا گیا کہ ایک زندہ بچے کو مردہ قرار دیا گیا۔ یہ الزام سراسر جھوٹا، بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔
ترجمان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ بچہ آج بھی نعمت بیگم ہمدرد یونیورسٹی اسپتال میں مکمل حیات کے ساتھ موجود ہے اور ماہر ڈاکٹروں کی زیر نگرانی علاج حاصل کر رہا ہے۔ مزید برآں، اسپتال انتظامیہ کی جانب سے مقامی صحافیوں کو ایسے شواہد بھی پیش کیے گئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مریض بچے کے بل میں 40 ہزار روپے کی رعایت بھی دی گئی۔
اپنے جاری بیان میں انتظامیہ نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ الحمدللہ بچے کی طبی حالت تسلی بخش ہے اور معالج ڈاکٹر نے اسے صحت یاب قرار دے دیا ہے۔ آج، 14 ستمبر 2025ء کو بچے کو باضابطہ طور پر اسپتال سے ڈسچارج کردیا جائے گا۔
ہمدرد یونیورسٹی اسپتال، شہید حکیم محمد سعیدؒ کے انسانیت کی خدمت کے مشن پر گامزن ہے اور اسپتال کی خدمات کو بدنام کرنے کی ایسی جھوٹی اور مذموم کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔
