آباد اور نیکٹا کے اشتراک سے انڈسٹری لیڈ ٹرینگنگ پروگرام کا آغاز
کراچی: ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز آف پاکستان (آباد) اور نیوٹک کے اشتراک سے آباد ہاؤس میں میگا انٹری ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے آباد ہاؤس کراچی کا دورہ کیا، جہاں چیئرمین ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز آف پاکستان (آباد) محمد حسن بخشی سمیت دیگر اراکین نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
اس موقع پر انڈسٹری لیڈ ٹریننگ پروگرام کے تحت داخلہ ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایک ہزار سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔اس موقع پر سینئر نائب چئیرمین سید افضل حمید ، نائب چئیرمین طارق عزیز، چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی ، ڈی جی نیوٹیک سندھ ڈاکٹر فدا حسین بضائی ،آباد کنوینئربرائے کمیٹی وکیشنل ٹریننگ پروگرام سلیمان سلیم سمیت دیگر اراکین موجود تھے
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا کہ آباد کی 53 سالہ تاریخ میں آج طلبہ کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر دل خوشی سے بھر گیا ہے۔
انہوں نے کراچی کے نوجوان سلیمان سلیم کو کامیاب پروگرام کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آباد ہنر مند نوجوانوں کے لیے انڈسٹری لیڈ پروگرام کا آج آغاز کر رہا ہے، جو کہ تین سالہ انجینئرنگ پروگرام ہے۔ اس پروگرام کے تحت اسلام آباد میں طلبہ کے رہائش، فیس اور دیگر اخراجات کا مکمل انتظام آباد کرے گا۔چیئرمین آباد نے مزید کہا کہ نیوٹیک اور آباد کا یہ مشترکہ سفر طلبہ کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ پاکستان کی ایک بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور آباد ان کی خدمت کو اپنا مشن سمجھتا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ میرٹ پر پورا اترنے والے طلبہ کو نہ صرف تعلیم دی جائے گی بلکہ روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر برائے ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے آباد ہاؤس کراچی میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں تعلیم دینے کا مقصد پورے پاکستان کو تعلیم دینا ہے، کیونکہ کراچی کی خوشحالی ہی پاکستان کی خوشحالی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بدل رہی ہے، ایسے میں پاکستان کے نوجوانوں کے لیے تعلیم وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ پاکستان، دنیا اور خدا کو سمجھنے کے لیے تعلیم ناگزیر ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ چاہے ریاست اور حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے یا نہ کرے، کراچی کے عوام کو اس ذمہ داری کو قبول کرنا ہوگا۔ پاکستان میں 35 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کی آبادی 18 کروڑ ہے، یہ نوجوان ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج بھی ہیں اور سب سے قیمتی اثاثہ بھی۔
وفاقی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ملتِ اسلامیہ کے لیے بنایا گیا تھا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسے ایک منڈی میں تبدیل کردیا گیا۔ آج کا دن نوجوانوں کی امیدوں کو آباد کرنے کا دن ہے۔انہوں نے آباد کے ممبران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں آباد کی کوششوں کو سراہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ہم سب مل کر ایک نئے دور میں داخل ہوں گے۔
