
جامشورو(رپورٹ: فرحان مگریو) تانیہ خاصخیلی قتل کیس کی سماعت سہون شریف کے ایڈیشنل جج کی عدالت میں ہوئی، جہاں مقتولا تانیا خاصخیلی کے مقدمہ کے وکیل لیاقت خاصخیلی، ملزم خانونوحانی کے وکیل فیض محمد چانڈیو اور تانیہ کی چھوٹی بہن دعا خاصخیلی موجود تھے۔
ایک بار پھر جوابدار کے وکیل نے تیاری نہ ہونے کا عذر پیش کرتے ہوئے آرگیومنٹ کرنے سے معذرت کر لی۔ جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جوابدار کے وکیل کو مہلت دیتے ہوئے 14 جون 2023 کو اگلی سماعت کی تاریخ دے دی۔تفصیلات کے مطابق 7ستمبر 2017 کو ہونے والی تانیہ کے قتل کی اس واردات کو پانچ سال مکمل ہو چکے ہیں۔
تانیہ کیس کے وکیل ایڈووکیٹ لیاقت خاصخیلی اوردعا خاصخیلی نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ عدلیہ سے ہمیں انصاف مل کر رہے گا

دعا خاصخیلی--تانیا خاصخیلی کی بہنمقدمہ کی مدعی دعا خاصخیلی نے کہا کہنا تھا کہ 2017 سے اب تک انصاف ہوتا نظر نہیں آرہا، تاہم عدالت میں اس امید کے ساتھ آئے ہیں کہ بہن تانیہ کو انصاف ملے گا۔
دعا خاصخیلی کا کہنا تھا کہ تانیہ کے قاتلوں کو بروقت سزا دی جاتی تو سہون کی بیٹیوں وزیراں چھچھر اور نورین فاطمہ کا دردناک قتل نہ ہوتا، ہمیں امید ہے کہ عدالت قاتلوں کو پھانسی دے گی۔
بہن تانیہ خاصخیلی کے قاتلوں کو سزا دلانے کے لیے نہ صرف ہم نے بلکہ میرے معصوم بہن اور بھائیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انصاف کے لیے کیے گئے وعدے صرف وعدے ہی رہ گئے، ہم گھر سے بے گھر ہوئے ہیں اور رشتہ داروں سے بھی الگ کردیا گیا، در در کی ٹھوکر خانے پر مجبور ہوگئے تھے۔
مشکل حالات میں مدد کرنے پر دعا خاصخیلی نے پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر الطاف شکور رفیق احمد اور ان کی پارٹی کا شکریہ بھی ادا کیا۔
