بھارت نے سندھ طاس معاہدہ بحال نہ کیا تو چھے کے چھے کینال چھین لینگے:بلاول
کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شہرِ قائد میں پانی کی قلت کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے حکومتِ سندھ اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کے جاری اقدام کے تحت نئے تعمیرشدہ ”نیو حب کینال“کا افتتاح کیا، جس سے شہر کو 100 ملین گیلن یومیہ اضافی پانی دستیاب ہوگا۔ انہوں نے تیزی سے بڑھتے ہوئے شہر کراچی کے لیے پانی کے میگا پروجیکٹ، کے-4 منصوبہ کی تعمیر میں وفاقی حکومت کی جاری سست روی پر اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ لاہور کے لیے شہباز اسپیڈ اور کراچی کے لیے شہباز سِلو بن جائیں۔
نیو حب کینال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پانی کراچی والوں کا ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے جسے حل کرنا ضروری ہے اور نئے کینال کی تعمیر کے بعد پرانی حب کینال کی بھی تزئین و آرائش جاری ہے، جس سے شہر کو مزید پانی فراہم کیا جائے گا۔ نئے کینال کی تعمیر سے ضلع وسطی، ضلع غربی اور کیماڑی کو فائدہ ہو گا، جبکہ اسی منصوبے سے لیاری والوں کو بھی مستفید کرنے کے لیے پی سی ون تیار کر لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ موڈ کے تحت سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بنانے کے منصوبہ کام کیا جا رہا ہے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کا شہر میں نفرت و تقسیم کی سیاست کے لیے استعمال نہیں کیا جا رہا اور یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ حکومتِ سندھ اور بلدیاتی ادارے ایک ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں جس سے عوام کو فائدہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کرنے والوں کے نام اور چہرے تو مختلف ہوسکتے ہیں لیکن اُن کا طریقہ کار ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے نفرت و تقسیم کی سیاست کرنے والوں کو شکست دی اور امید ہے کہ آئندہ انتخابات میں بھی کام کرنے والوں کو ووٹ ملے گا نہ کہ نفرت کی سیاست پھیلانے والوں کو۔
انہوں نے کراچی اور حیدرآباد کے پارٹی کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ شہروں کے جیالوں نے ماضی میں دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور یہاں کی نفرت و تقسیم کی سیاست کے آگے ڈٹے رہے۔ انہوں نے کہا کہ جیالوں کی محنت اور قربانیوں کی وجہ سے تاریخ میں پہلی بار کراچی اور حیدرآباد میں جیالے میئر منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب نفرت پھیلانے والے سیاست دانوں کو کراچی و حیدرآباد کے عوام پہچان چکے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی کا معاملہ وزیراعظم میاں شہباز شریف کے سامنے اٹھائیں گے اور انہیں بولیں گے کہ کے فور منصوبے کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ کراچی کی ترقی و عوامی مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم میاں شہباز شریف اسی تندہی سے سپورٹ کریں گے جس کا مظاہرہ وہ لاہور کے لیے دکھاتے رہے ہیں۔ ہم نے بھارت کو عبرتناک شکست دی اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہم نے بھارت کو سفارتی محاذ پر بھی شکست سے ہمکنار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اِن شکستوں کے بعد بھارت مزید بزدلانہ ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے اور وہ قوم پرستوں اور دہشتگردوں کی سہولت کاری کر رہا ہے۔
پی پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ بھارت کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو فنڈنگ کر رہا ہے تاکہ وہ دہشت گرد تنظیمیں معصوم شہریوں کا خون بہا سکیں۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن ہاہو کو نقل کرتے ہوئے سازش کی اور یہ اعلان کیا کہ وہ پاکستان کے حصے کا پانی روکنا چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے غیرقانونی طورپرسندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کرکے ”سندھُو“ (دریائے سندھ) پر تاریخی حملہ کیا ہے، مودی سرکار سندھ طاس کے معاہدے کو توڑ کر ہمارے دریا پر ڈیم اور نئے کینالز بنانا چاہتی ہے۔
پی پی پی چیئرمین نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہم پوری دنیا، بھارت اور مودی رجیم کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ان کا مقابلہ پہلے سفارتی سطح پر کریں گے اور مجبور کیا گیا تو جنگ کے میدان میں بھی مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی بھارت کو مجبور کریں گے کہ وہ عالمی قوانین کے مطابق سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کرے ورنہ کراچی کے لوگ بھارت سے 6 کے 6 دریا چھین کر پاکستان میں اپنی عوام تک پہنچائیں گے۔
