کراچی: پیپلز لیبر بیورو کراچی ڈویژن کے صدر و ممبر سٹی لیبر کونسل اسلم سموں نے اپنے بیان میں کہا ہم جمہوریت پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں، اور اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ احتجاج کرنا ہر شہری، ہر ملازم، اور ہر سیاسی یا سماجی جماعت کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ لیکن اس حق کو استعمال کرتے وقت سچائی، انصاف اور دیانت داری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ بدقسمتی سے، آج جو لوگ سڑکوں پر آ کر احتجاج کی کال دے رہے ہیں، انہیں پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر یہ سوال کرنا چاہیے کہ جب ان کے اپنے نمائندے اقتدار میں تھے، تب انہوں نے ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے کیا اقدامات کیے؟
اسلم سموں نے کہا حقائق یہ ہیں کہ ماضی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی (KMC) کے ملازمین کو صرف سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ انہیں جلسوں، جلوسوں اور پارٹی سرگرمیوں میں شرکت پر مجبور کیا جاتا تھا، اور ان کے مسائل کو مسلسل نظر انداز کیا گیا۔ پروموشن، اپگریڈیشن، اور واجبات کی ادائیگی جیسے بنیادی حقوق کو ترجیح دینے کے بجائے ذاتی پسند و ناپسند اور سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر فیصلے کیے گئے۔ یہی وہ ماضی ہے جس نے ملازمین کو محرومیوں کی دلدل میں دھکیل دیا۔
انہو نے کہا میئر کراچی، جناب مرتضیٰ وہاب، وہ پہلے میئر ہیں جنہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی ملازمین کی فلاح کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ انہوں نے دوران ملازمت شہید ہونے والے ملازمین کے بچوں کو ڈیزیز کوٹے پر ملازمتیں فراہم کیں، جو ایک تاریخی قدم ہے۔ انہوں نے رنگ، نسل، زبان، یا سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر صرف میرٹ کو بنیاد بنایا اور خالصتاً خدمت کا جذبہ لے کر آگے بڑھے
مزید بیان کیا کے ایم سی کے 118 ملازمین کو مکمل میرٹ پر ترقی دی گئی—وہ ترقیاں جو برسوں سے رکی ہوئی تھیں اور جن پر صرف مخصوص افراد کو نوازا جانا تھا۔
اس کے ساتھ ہی ایک بڑی کامیابی یہ حاصل کی گئی کہ تمام جماعتوں کی متفقہ حمایت سے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کی قرارداد پاس کرائی گئی، جس پر عملدرآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔
اسلم سموں نے کہا کہ اسی تسلسل میں ایک اور بڑا قدم میئر کراچی نے یہ اٹھایا کہ گریڈ 1 سے 4 تک کے تقریباً 8000 ملازمین کی اگلے گریڈ میں اپگریڈیشن کے لیے قرارداد منظور کرائی، جس سے ہزاروں خاندان مستفید ہوں گے۔ یہ وہ کام ہیں جو ماضی میں کسی بھی میئر نے نہ صرف نہیں کیے بلکہ ان کے بارے میں سوچا بھی نہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ماضی کے کچھ میئرز نے اپنے ہی اردو بولنے والے ملازمین کے ساتھ ناانصافی کی۔ اپنے لسانی اور سیاسی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے انہوں نے اپنے لوگوں کو وہ حقوق نہ دیے جن کے وہ حقدار تھے۔ آج جب میئر مرتضیٰ وہاب نے ان محرومیوں کا ازالہ کیا، پروموشنز دیں، واجبات پر کام شروع کیا، اور ملازمین کو باعزت مقام دیا، تو وہی لوگ احتجاج کی آڑ میں اپنی ناکامیاں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسلم سموں نے بتایا میئر کراچی نے پونے دو ارب روپے کی سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو بھیجی ہے تاکہ ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی مزید بہتر انداز میں کی جا سکے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ بلدیاتی قیادت صرف زبانی دعووں پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔
انہوں نے ہمیشہ ملازمین کو عزت، وقار اور اعتماد دیا ہے۔ آج KMC کا ہر ملازم سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر اپنی ملازمت انجام دے رہا ہے۔ ان پر جلسے جلوسوں میں شرکت کا دباؤ نہیں ڈالا جاتا، اور ان کے مسائل سننے کے لیے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔ کل جو لوگ اختیارات کے فقدان کا رونا رو رہے ہیں، وہ دراصل اپنی نااہلی اور ناکامی کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اختیارات اگر مسئلہ تھے تو موجودہ دور حکومت میں کیا ہے؟ کیوں ان کے ادوار میں ملازمین کو صرف ایک استعمال کی چیز سمجھا گیا؟ کیوں KDA جیسے اداروں کو مالی بحران میں دھکیلا گیا؟ کیا یہ سب ان کی ناقص حکمرانی کا نتیجہ نہیں تھا؟
اسلم سموں نے کہا پاکستان پیپلز پارٹی اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی قیادت میں بلدیہ عظمیٰ کراچی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت نیک ہو، وژن پختہ ہو، اور عوام سے سچی محبت ہو تو محدود وسائل میں بھی بہت کچھ ممکن ہے۔ ہم الزام تراشی کی سیاست نہیں کرتے۔ ہم کراچی کے ہر گلی کوچے، ہر بستی، اور ہر زبان بولنے والے شہری کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں۔ہمیں فخر ہے کہ ہم نے عملی اقدامات کے ذریعے ملازمین کا اعتماد بحال کیا ہے، اور یہ جدوجہد صرف ملاز مین کے حقو ق کے لیے ہی نہیں بلکہ ایک باوقار، منصفانہ اور انسان دوست بلدیاتی نظام کے لیے ہے۔
