اسٹیوٹا کے 30 فیصد ادارے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کا فیصلہ

اسٹیوٹا کو فعال بنانے کے لیے کے 30 فیصد ادارے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلائے جائیں گے۔ اجلاس میں فیصلہ

چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت اسٹیوٹا کا اہم اجلاس

اجلاس میں چیئرمین اسٹیوٹا جنید بلند، ڈی جی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، ایم ڈی اسٹیوٹا اور متعلقہ افسران نے شرکت کی

چیف سیکریٹری سندھ نے ایم ڈی اسٹیوٹا کو نوجوانوں کے لیے مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی کورسز فوری شروع کرنے اور جدید اور مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق کورسز متعارف کرانے کی ہدایت کی

آصف حیدر شاہ نے کہا کہ اسٹیوٹا سے فارغ التحصیل صرف 35 فیصد طلبہ کو ملازمت ملتی ہے،اسٹیوٹا سے تربیت حاصل کرنے والے گریجویٹس کی 100 فیصد ملازمت یقینی بنائی جائے۔

اسٹیوٹا کو فعال بنانے کے لیے کے 30 فیصد ادارے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلائے جائیں گے۔ اجلاس میں فیصلہ

آصف حیدر شاہ نے کہا کہ اسٹیوٹا صنعتوں کی ضروریات کے مطابق تربیتی پروگرامز شروع کرے۔

سندھ بھر میں 6 ڈویژنز سے 30 ماڈل ادارے قائم کرنے اور ماڈل اداروں میں جدید نصاب، تربیت یافتہ عملہ اور عالمی معیار کی اسناد فراہم ہوں گی، اجلاس میں فیصلہ

اسٹیوٹا کے تحت کراچی میں 56، حیدرآباد میں 65 ادارے کام کر رہے ہیں، اجلاس میں آگاہی

سکھر میں 31، لاڑکانہ میں 46، میرپور خاص میں 18 اور شہید بے نظیرآباد میں 43 ادارے موجود، اجلاس میں آگاہی

چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے کہا کہ اسٹیوٹا کے اداروں کی بہتری کے لیے نجی شعبے کا تعاون ناگزیر ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ہر معاہدے میں روزگار کا ہدف شامل کیا جائے۔

جنید بلند نے کہا کہ ماڈل اداروں کا مقصد نوجوانوں کو مقامی و عالمی مارکیٹ کے لیے تیار کرنا ہے۔

چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ اسٹیوٹا کو تدریسی عملے کی کمی، پرانے نصاب اور انفراسٹرکچر جیسے مسائل حل کیے جائیں گے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں