بھارت کی بڑی معاشی طاقت اور آئی ٹی ایکسپرٹ ہونے کا بھرم ختم ہوگیا:ارم تنویر

چیئرمین رابطہ فارم انٹرنیشنل نصرت مرزاکاکہنا تھاکہ بھارتی آپریشن سندور کوپاکستان نے آپریشن دوھوا بنادیا۔پاکستان عسکری لحاظ سے بھارت سے بہت آگے ہے۔ پاکستانی روایتی ہتھیاروں کا مقابلہ بھارت نہیں کرسکتا۔ غیر روایتی ہتھیاروں  میں بھی ہم بھارت سے آگے ہیں ہماری فضائیہ تو اس معرکہ کی ہیرو ہے۔ جوبھارت سے 20سال آگے ہے۔ کیونکہ جوجدید فضائی سامان ہمارے پاس آیا۔ وہ 20سال بعد بھارت نے حاصل کیا ۔پاکستان ایئرفورس نے فضائی حکمرانی کی روایت برقرار رکھی۔ اور اس نے بھارت کے تین فرانسیسی رافیل ،روس کے سخوئی اورمِگ کو تباہ کیا۔ اس کے علاوہ بھارت کے ایئربیسز ،بریگیڈ ہیڈکوارٹرز ،براہموس میزائل ڈپو سمیت سری نگر سے راجستھان تک 26اہم فوجی تنصیبات کو ملیامیٹ کیا۔ ہماری نیوی بھی دشمن سے زیادہ طاقتور ہے اس معرکہ میں ہم نے ہرشعبے میں دشمن پر اپنی برتری ثابت کردی۔ان خیالات کا اظہار  انہوں نے کراچی میں رابطہ فورم انٹرنیشنل کے زیراہتمام آپریشن ’’بینان مرصوص‘‘ کی کامیابی اور اس کے اثرات کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب میں کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے چین کی مدد سے مغربی حربی ٹیکنالوجی کو ناکام کیا۔اس جنگ سے جنوبی ایشیا کی حربی بالادستی ثابت ہوگئی ۔پاکستان اور چین نے بھارت ، فرانس، اسرائیل اور روسی ٹیکنالوجی پر سبقت ثابت کردی۔

ماہر بین الاقوامی امور پرفیسر ڈاکٹر طلعت وزارت کا کہناتھا کہ  بھارت سمجھاتھا کہ پاکستان میں اس وقت سیاسی تقسیم عروج پر ہےلحاظہ عسکری کارروائی کیلئے مناسب موقع ہے لیکن نتائج نے اس کے اندازے کو غلط ثابت کردیا ۔ بھارتی منصوبہ بناکام ہوا اس کا بیانیہ بھی دنیا نے تسلیم نہیں کیا۔ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر دوبارہ اجاگر ہوگیا۔ ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔بھارت میں سیاسی تقسیم واضح طور پر نظر آئی۔ امریکا نے بھارت کا ساتھ نہیں دیا روس  بھی لاتعلق رہا۔فرانس کے صدر نے تو بھارتی وزیراعظم سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کیا تھا۔ اس معرکہ میں چین اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات کی اہمیت اجاگر ہوئی ۔چین کے ہتھیاروں کی حربی صلاحیت کو دنیا نے تسلیم کیا۔ پاکستان کو اس کامیابی کے بعد زیادہ محتاظ ہوناہوگا۔

سابق سفیر جی آربلوچ نے کہا کہ اس ناکامی کے بعد مودی کا اقتدار میں رہنا ناممکن ہوگیاہے۔بھارت حربی میدان میں پاکستان کے مقابلے میں ناکام رہا۔ غیرروایتی کےساتھ روایتی ہتھیاروں میں بھی پاکستان بھارت سے زیادہ طاقتو ر ثابت ہوا۔ دہشت گردی کے واقعات کو پاکستان سے جوڑنے کا بھارتی بیانیہ دنیا نے تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان کی ڈپلومیسی بھی بہترین تھی۔ میڈیا وار میں بھی بھارت کو ناکامی ہوئی۔ ہمیں اس کامیابی کے بعد اپنی غلطیوں اور کمزوریوں پرکام کرنا ہوگا۔ روایتی اور غیر روایتی ڈیٹرنس کو اپ ڈیٹ کرنا ہوگا کیونکہ دشمن دوبارہ جسارت کرسکتاہے۔

سابق سفیر رفیع الزمان کا کہنا تھا کہ اس جنگی کامیابی کے بعد ہمیں محتاط رہنا ہوگا۔علاقائی تنازعات کے حل کیلئےمختلف پلیٹ فارم کو استعمال کرنا ہوگا۔ افسوس ہے کہ سارک ایک مردہ تنظیم بن گئی ہے۔ اس کا اسٹریکچر ابتدا ہی سے غلط تھا۔ حالیہ پاک بھارت جھڑپ سے قبل ایران اور دوست ممالک نے بھارت کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ ایرانی وزیرخارجہ کے خلاف تو بھارتی میڈیا نے توہین آمیز رویہ اختیار کیا جوقابل مذمت ہے۔ بھارت اپنے پڑوسی ملکوں سے تعلقات خراب کررہاہے۔ جس کا اُسے نقصان ہوگا۔ کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا تو خطے میں امن ہوگا۔ پاکستان کی کامیابی ایک معجزہ ہے۔ اللہ نے ہمیں ایک اور موقع دیا ہے کہ عالمی سطح پر اپنی حیثیت کو منوائیں۔ پاکستان کی افواج ،حکومت ،فارم آفس اور میڈیا اس کامیابی پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ہمیں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے خاتمے کیلئے فیصلہ کن اقدام کرنا ہوگا ۔ جس کا عالمی سطح پر فارن آفس پربہت دباؤ ہے ہمیں سی پیک کے خلاف سازشوں سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا۔

ایریااسٹڈی سینٹرفاریورپ جامعہ کراچی کی چیئرپرسن پرفیسر ڈاکٹر عظمیٰ شجاعت نے کہا کہ پاکستان کے پاس سنہرا موقع ہے کہ وہ بھارت کی دہشت گردی کو عالمی سطح پر اجاگر کرے۔ بھارت نے پاکستان میں سیاسی تقسیم دیکھ کر کارروائی کی ۔ جس کا نتیجہ بھارتی توقعات کے خلاف نکلا۔ بھارت مضبوط معیشت اور زعم اور طاقت کے نشے میں تھا۔ لیکن اس معرکے میں پاکستان بھارت سے سپریئر ثابت ہوا۔ اگرچہ بہت سے شعبوں میں ہم بھارت سے پیچھے ہیں لیکن اس جھڑپ کے دوران سیاسی، سفارتی اور میڈیا کے محاذ پر بھی ہمیں سبقت حاصل رہی۔

ثمرین باری نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت پاکستان کو فلسطین یایوکرین سمجھنے کی غلطی کربیٹھا۔ جس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑا۔ جنوبی ایشیا میں دنیا کی 20اعشاریہ 8فیصد آبادی رہتی ہے۔ جو ایٹمی جنگ کے خطرات میں گھری ہوئی ہے۔ اتنی بڑی آبادی کے درمیان معاشی سرگرمی کم ہونا المیہ ہے۔ بھارت اور پاکستان کے تنازعات کو اقوام متحدہ اور دولت مشترکہ حل کروانے میں ناکام رہے۔ بھارت نے پہلی مرتبہ پانی کوبطور ہتھیار کے استعمال کیاہے۔ ہمیں اس خطرے کا مستقل حل نکالنا ہوگا۔

شکیل احمد صدیقی کا کہنا تھا کہ بھارت کی ساکھ خراب ہوئی۔ اس کا بیانیہ دنیا نے تسلیم نہیں کیا۔ کشمیر پالیسی ناکام ہوئی۔ فروری 2022میں اپوزیشن لیڈر نے مودی کو کہا تھا کہ آپ چین سے ٹکراؤ کی پالیسی اختیار نہ کریں ۔آپ تنہا ہورہے ہیں۔جے ایس شنکر نے ٹوئٹ میں افغان وزیرخارجہ کو کہا کہ افغانستان میں استعمال ہونے والا اسلحہ پہلگام واقعہ میں استعمال ہواہے۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طورپر ختم نہیں کرسکتا۔ پاکستان اپنے دفاع کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ مودی کی سیاسی اور سفارتی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاہے۔ اس کامیابی کے بعد پاکستان کومزید چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تیار رہناچاہئے۔

ارم تنویر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں اس کامیابی کے بعد مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کیلئے بھی تیاری کرنا ہوگی۔ اس معرکہ میں پاکستان ناقابل تسخیر ثابت ہوا۔ بھارت کی بڑی معیشت اور آئی ٹی پر دسترست کابھرم زمیں بوس ہوگیا۔ یقیناً بھارت ایک بڑی معاشی طاقت ہے۔ سیٹوسینٹو کے زمانے میں ہمیں جدید حربی آلات ملے جس کا فائدہ ہوا موجودہ دور میں چین کی جدید حربی صلاحیت سے پاکستان اچھی طرح روشناس ہے۔ اس جنگ میں کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر آگیا۔ ہمارے میڈیا کو موقع ملا کہ وہ پاکستان کے بیانیے کو بہتر طریقے سے عالمی فورم پر پیش کرے۔ ہماری عسکری صلاحیت ساری دنیا کے سامنے آئی ہے۔ چین اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات کی اہمیت اجاگر ہوئی ہے۔ اس حربی معرکہ کے دوران پاکستان ایک امن پسند ملک کے طورپر سامنے آیا۔ جو ہماری ایک اور کامیابی ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں