چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد کی چیف سیکریٹری سندھ سے ملاقات

چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد کی چیف سیکریٹری سندھ  آصف حیدر شاہ سے اہم ملاقات

چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام  سینیٹر روبینہ خالد نے آج کراچی میں چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ سے ان کے دفتر میں اہم ملاقات کی جس میں صوبے میں بی آئی ایس پی کی افادیت بڑھانے اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس ملاقات میں متعدد اہم پہلوؤں پر غور کیا گیا، جن میں بی آئی ایس پی کے ادائیگی مراکز پر سیکیورٹی اور لاجسٹکس کے انتظامات کو مؤثر بنانے پر زور دیا گیا تاکہ مستحق خواتین کو رقوم کی تقسیم بغیر کسی تاخیر کے یقینی بنائی جا سکے۔

سندھ حکومت اور بی آئی ایس پی کے عملے کے درمیان مربوط حکمت عملی اور مشترکہ اقدامات کو یقینی بنانے پر بھی گفتگو ہوئی تاکہ ادائیگیوں کے دوران درپیش شکایات کا بروقت ازالہ کیا جا سکے۔

سندھ بھر میں بی آئی ایس پی دفاتر کے قیام کے لیے مناسب سرکاری اراضی کی فراہمی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ مؤثر سروس ڈیلیوری اور مستحقین تک آسان رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ، سندھ حکومت کے مجوزہ ہاؤسنگ  منصوبے میں بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والی خواتین کی شمولیت کے امکانات پر بھی بات چیت کی گئی جس کا مقصد کمزور طبقات کو باعزت اور سستی رہائش کی فراہمی ہے۔

چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ نے چیئرپرسن بی آئی ایس پی کو صوبائی حکومت کی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ بی آئی ایس پی کے سماجی تحفظ کے اقدامات میں مکمل شراکت داری جاری رکھے گی تاکہ پسماندہ طبقے کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔

سینیٹر روبینہ خالد نے سندھ میں سماجی و اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے کے لیے بین الاداراتی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا اور تعاون پر مبنی طرزِ حکمرانی کے فروغ میں چیف سیکریٹری سندھ کے متحرک کردار اور عزم کو سراہا۔

ملاقات ایک مثبت نوٹ پر اختتام پذیر ہوئی جس میں صوبے کے پسماندہ طبقات کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں