شیخ ایاز کے فکر کی میراث ہمیشہ سندھ کے شعور کی رہنمائی کرتی رہے گی، ڈاکٹر خالدعراقی

شیخ ایاز اس خطے کے ایسے شاعر ہیں جن کے نقوش آج بھی اور آنے والے کل میں مرتب ہوتے رہیں گے۔ڈاکٹر جعفراحمد

کراچی (رپورٹ: گھنشام میگھواڑ) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا کہ شیخ ایاز عالمگیر امن انسانی کے قائل ایک عظیم شاعرتھے۔ شاعراپنی شاعری کے ذریعے معاشرے کی عکاسی کرتاہے اور شیخ ایاز نے اپنی شاعری کے ذریعے معاشرتی مسائل کو نہ صرف اجاگرکیابلکہ لوگوں میں آگاہی بھی پیداکی۔شیخ ایاز ایک نظریاتی اورنتائج کی پرواکئے بغیر حق کے لئے آوازبلند کرنے والے شاعرتھے۔شیخ ایاز امن، دھرتی، محبت اور شعور کے شاعر ہیں شاعر جب سچ بولتا ہے تو انہیں قیمت ادا کرنی پڑتی ہے،اور شیخ ایاز نے فیض احمد فیض اور دیگر شعرا کی طرح وہ قیمت ادا کی۔شیخ ایاز کا فکر ترقی پسند تھا۔ہمیں اپنے طلبہ میں شیخ ایاز کے فکر کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ شیخ ایاز سندھ کے عظیم شاعر ہیں ان کی فکر کی میراث ہمیشہ سندھ کے شعور کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی چیئر جامعہ کراچی، شعبہ سندھی جامعہ کراچی اور محکمہ ثقافت وسیاحت حکومت سندھ کے  اشتراک سے کلیہ فنون وسماجی علوم جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں منعقدہ شیخ ایاز صدسالہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر شیخ ایاز کے صاحب زادے پروفیسر مونس ایاز، نامور ترقی پسند دانشوروسابق ڈائریکٹر پاکستان اسٹڈی سینٹر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر سید جعفر احمد، رئیسہ کلیہ فنون وسماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم، ڈائریکٹر شاہ عبداللطیف بھٹائی چیئر جامعہ کراچی پروفیسرسلیم میمن،صدر شعبہ سندھی ڈاکٹر ناہید پروین، مہتاب اکبر راشدی، مدد علی سندھی اور ڈی سی کیماڑی مختیار ابڑو دیگر بھی موجودتھے۔

پاکستان اسٹڈی سینٹر جامعہ کراچی کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر جعفر احمد نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ اس سال شیخ ایاز کے ولادت کو سو سال ہوئے ہیں، جب ان کا جنم ہوا تو وہ وقت انگریز استعمار کا دور تھااور یہ صدی فکری رہنماؤں کے جنم کی صدی تھی۔شیخ ایاز نے اس صدی کے تقاضوں کو بہت ہی گہرائی سے سمجھا اوران حالات کے مطابق اپنے فن کو پرکھا اور جاننے کی کوشش کی۔سندھ میں بڑی نابغہ روزگار علمی اور فکری شخصیات پیداہوئیں جنہوں نے اس صدی میں فکر کی آبیاری کی اوراپنے افکار سے صرف اپنے اس خطے کو نہیں بلکہ اور بھی دنیا کو مستفید کیااور اس میں ایک بہت بڑااور نمایاں نام شیخ ایاز کا ہے۔ شیخ ایاز کی شاعری نسلی تعصب سے پاک ہے جس زبان کا قلم کار بھی شیخ ایاز پڑھتا ہے وہ سندھی زبان سے شناسا ہو ہوجاتا ہے،منظر نگاری میں ان کو کمال حاصل تھا،ان کی شاعری اور نثردونوں میں ایک رومانوی فضانظرآتی ہے۔ خاص طور پر انہوں نے شاہ عبدالطیف بھٹائی کے رسالے کا جو اردومیں ترجمہ کیا، وہ ان کا بہت بڑا کام ہے۔  انہوں فیض احمد فیض کی طرح ہمیشہ ظلم اور بربریت کے خلاف لڑنے کو فروغ دیا۔شیخ ایاز اس خطے کے ایسے شاعر ہیں جن کے نقوش آج بھی اور آنے والے کل میں مرتب ہوتے رہیں گے۔

 شاہ عبداللطیف بھٹائی چیئر جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر پروفیسر سلیم میمن نے کہا کہ شیخ ایاز ایک عالمی شاعر ہیں، ان کی شاعری میں عالمی فکر پنہاں ہے۔شیخ ایاز کی شاعری نے حالات اور کی وقت کے مطابق کروٹ لی، جہاں بھی جبر ہوا، انہوں نے اس پر قلم اٹھایا۔ سولہ سال کی عمر میں انہوں نے افسانے لکھے، وہ صرف نہ ایک شاعر تھے بلکہ وہ ادب کے مختلف پہلوؤں پر دسترس رکھنے والے عہد ساز شاعر تھے۔ ان کے شاعری کے نقوش سندھی ادب میں آج بھی گہری سطح پر نظر آتے ہیں۔

رئیسہ کلیہ فنون وسماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم نے کہا کہ شیخ ایاز نے اپنی شاعری کے ذریعے ایک نئی سوچ متعارف کرائی،شیخ ایاز میں انقلابی روح تھی جو بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔شیخ ایاز کی شاعری کسی بھی معاشرے میں ایک تلاطم پیداکرسکتی ہے اور اس طرح کی شاعری معاشروں میں شعور پیداکرنے کے لئے ناگزیر ہوتی ہے۔

ڈپٹی کمشنر کیماڑی مختیار ابڑو نے کہا کہ شاعروہ ہوتے ہیں جو دنیا اور اس میں بسنے والے لوگوں اور جدوجہد کرنے والے انسانوں کو نئی راہیں دکھاتے ہیں۔21 ویں صدی کے دوران سندھی زبان میں بہت بڑے عالم پیدا ہوئے ہیں۔ جس طرح کلاسیکل شاعری میں جو مقام شاہ عبدالطیف بھٹائی کا ہے۔ جدید شاعری میں وہی مقام شیخ ایاز کو حاصل ہے۔ وہ مٹی سے محبت کرنے والے شاعر تھے۔ شیخ  ایاز سندھ دھرتی کے ساتھ ہر مظلوم کا شاعر ہے، جہاں انہوں نے آزادی کے نغمے لکھے وہی پر انہوں نے محنت کشوں کے لیے بھی گیت لکھے۔ آج کا نوجوان شیخ ایاز سے متاثر ہے،شیخ ایاز سندھ کے ہر جنریشن کا شاعر ہے۔ان کی یاداشتیں ان کی علمی، فکری اور عالمی  فکر کے مطالعے کی گواہی دیتی ہیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں