شاعر ہو یا شاعرہ دونوں کے لئے حساس دل کا مالک ہونا لازمی امر ہے، فہمیدہ مقبول

کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان کی سینئر شاعرہ اور سات مجمو عوں کی خالق فہمیدہ مقبول کا کہنا ہے کہ شاعر ہو یا شاعرہ دونوں کے لئے حساس دل کا مالک ہونا لازمی امر ہے جبکہ بہتر شاعری کی تخلیق کے لئے ذہن اور دل کے درمیان ہم اہنگی بھی ضروری ہے تمام شاعر اور شاعرات اپنے معاشرتی ماحول سے نہ صرف جوڑے ہوتے ہیں بلکہ اپنی شاعری میں زمانے اور معاشرے میں وقوع پزیر ہونے والے واقعات حادثات اور حالات کو بیان کرتے ہیں یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان کا دل حساس بھی ہو اور وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے متاثر نہ ہو یہی احساس ہے جو کسی انسان کو شاعر، مصور، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار اور رقاص یا رقاصہ بناتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ان کی شاعری کی بنیاد ہی معاشرتی زندگی ہے وہ کل وقتی شاعرہ ہیں اور اپنی زندگی سے متعلق تقربیا ہر رشتہ کو شاعری میں قلمبند کرچکی ہیں اگرچہ گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہی ہیں لیکن شعر کہنا فطرت میں شامل ہے اسی لئے شعر گوئی مسلسل جاری ہے انہوں نے اپنے گھریلو حالات معاشرتی معاملات سیاسی واقعات اور حسن و عشق کو اپنی شاعری میں پیش کیا ہے فہمیدہ مقبول سات شعری مجموعوں کی خالق ہیں جن کے نام, فہم و سخن، غباردل، کرنوں کی تپش، یادوں کی راہ گزر، آتش عشق نے جلا ڈالا، بھیگے موسم، اور حمد و نعت کا مجموعہ روح کی جستجو، شامل ہیں.

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں