سندھ کے لوگ زندہ ہیں اور ہم کینال بننے نہیں دینگے:وزیراعلیٰ سندھ

ٹھٹہ: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اس سال نئی اسکیمیں دے رہے ہیں۔ہر ضلع میں کم از کم 5 ارب روپے کی اسکیمز دی جائیں گی۔ ہم کمیٹی بنائینگے جو اسکیموں کی تجاویز لیں گے۔ایک کمیٹی براہ راست کارکنان کی چھوٹی اسکیموں لی جائینگی

تقریب سے خطاب میں سید مراد علی شاہ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر آج پارٹی کارکنوں سے ملنے آیا ہوں،شروعات ہم نے ٹھٹو اور سجاول اضلاع سے کی ہے اور اسی ماہ اپریل میں تمام اضلاع میں جائینگے،گزشتہ سال نئی اسکیم شروع نہیں کی گئی، دیگر کمیٹی تعلقہ اور ضلع سطح لکی اسکیمز کی جائینگی۔سندھ حکومت آپ کی پیپلز پارٹی ہے اور ہم آپکے پاس آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی تجاویز پر ایک ارب روپے کی اسکیمز دی جائینگی،ڈپٹی کمشنرز اسکیمز بنانے میں مدد دینگے۔15 یوم ٹھٹو اور سجاول کو دے رہے ہیں کہ آپنی اسکیمز دیں۔بڑی اسکیمیں بھی کارکنوں کی طرف سے آئینگی جو بھی منظور کی جائینگی،سندھ کی عوام نے ہمیشہ پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا ہے۔پیپلز پارٹی آپ کا بھرپور خیال رکھ رہی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ پیپلز پارٹی آپ کی ہے اور آپ اس کی طاقت ہو اور پارٹی آپ کی طاقت ہے،سندھ کوسٹل ہائی وے پر کام جاری ہے،ٹھٹو میں لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کالج کا میں نے افتتاح کیا تھا، آج اس کی کلاسز شروع ہیں،سیلاب آیا تو چیئرمین کے حکم پر ہم متاثرین کو 21 لاکھ گھر بناکر دے رہے ہیں۔ٹھٹو ، سجاول اور بدین میں سائیکلون (ٹو اے )آیا تو کسی نے متاثرین کو گھر بنا کر نہیں دیئے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے نہ صرف گھر بنا کر دیئے بلکہ مالکانہ حقوق بھی دے رہے ہیں،پانی کا مسئلہ ویسے تو پورے صوبے میں ہے لیکن ٹھٹو اور سجاول آخر میں ہونے کی وجہ سے شدید قلت ہے،دریاء ہمارا ہے اور ہم اس کا پانی کسی کو نہیں دیں گے۔پانی پر سیاست کر کے پیپلز پارٹی کو بدنام کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔دریاء کے پانی پر عالمی اصولوں کے مطابق نیچے رہنے والوں کا حق ہوتا ہے۔اس لیئے پانی پر حق سب سے زیادہ سندھ کا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ٹھٹو اور سجاول کا ہے جس لیئے میں نے اپنا پروگرام یہاں سے شروع کیا ہے،پاکستان پیپلز پارٹی دریائے سندھ پر کینالوں کی مخالف ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کینال سمورا نامنظور، سندھو پر کینال نامنظورکے فلک شگاف نعرے بھی لگائے۔ مخالفین اپنے جلسوں میں کینالوں پر ایک منٹ اور پیپلز پارٹی کے خلاف لمبا خطاب کرتے ہیں،2018ء میں چولستان اور چوبارا کینالوں کا منصوبہ کی فزیبٹلی تیار کی گئی،ہماری 2018 تا 2023 تک تھی اور سندھ حکومت نے ایک انچ کا بھی کام کرنے نہیں دیا۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ نگراں حکومت کے دور میں 17 جنوری کو ارسا اجلاس میں پنجاب حکومت تجویز پیش کرتی ہے،ہم مانتے نہیں مگر ارسا کے مطابق 27 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں ضایع جاتا ہے۔بھر انہوں نے کہا کہ 7 ملین ایکڑ سیلاب کا پانی ہے جس کا 91ء پانی معاہدہ کے تحت 37 فیصد پانی پنجاب کا ہے؛ اس پر کینال بنائینگے۔ارسا بغیر پڑھے اس کی منظوری دیتی ہے،پیپلز پارٹی حکومت کا رکھا گیا ارسا میں سندھ کے نمائدہ نے سخت اعتراض کیا۔27 جنوری کو منٹس نکالے اور دو دنوں کے اندر سندھ کی نگراں حکومت نے بھی مخالفت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارے مخالفین اس وقت نیند کر رہی تھی،16 جون کو سندھ حکومت نے سی سی آئی میں کینالز کے خلاف ریفرینس بھیجا۔انہوں نے کہا کہ گرین پاکستان انیشیٹو کر رہے ہیں، اس میں کئی چیزیں ہیں۔لائننگ کرینگے، ٹرپ ایریگیشن کرینگے، پانی کو صاف اور بچانے کے طریقے رکھیں گے۔ ہمیں مزید ایراضی لینی ہے اور چھ کینالز کا ذکر کیا۔صدر آصف زرداری نے انہیں کہا کہ آپ صوبوں سے بات کریں۔صدر مملکت کو نہ کسی منصوبے کی منظوری کا اختیار ہے نہ رد کرنے کا اختیار ہے۔صدر زرداری نے مجھے اگست یا ستمبر میں بلایا مجھ سے بریفنگ لی۔میں نے صدر صاحب کو بتایا کہ ہم نے انہیں روکا ہوا ہے

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ  اس دوران انہوں نے سی ڈبلیو پی جس میں کوئی سیاست دان نہیں ہوتا وہاں ہمارا پلاننگ سیکریٹری گیا اس نے شدید مخالفت کی مگر انہوں نے زبردستی اس کی منظوری لی۔ایکنک اجلاس بلانے کیئے میں نے ڈپٹی وزیراعظم کو خط لکھا اور کہا کہ اس منصوبہ کو آگے نہ بڑھائیں۔ہم نے سی سی آئی میں اس منصوبہ کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ڈپٹی وزیراعظم نے میری بات مانی،نومبر میں ایکنک کے اجلاس میں یہ ایجنڈا آیا لیکن ڈپٹی وزیراعظم نے کہا سندھ کا اعتراض ہے اس کو خارج کیا گیا،سندھ کے لوگ زندہ ہیں اور ہم کینال بننے نہیں دینگے،۔ہمارے مخالفین کہتے ہیں ہم حکومت چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔کینالوں کی تعمیر میں پاکستان پیپلز پارٹی ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو عوام سے دور کرو، یہ سازش ان کی ہے۔سندھ کے حقوق کے لئے پیپلز پارٹی دیوار بن کر کھڑی ہے۔چیئرمین بلاول بھٹو نے 4  اپریل کو وزیراعظم کو کہا ہے کہ یہ منصوبہ ختم نہیں کیا گیا تو میں اپنی عوام کے ساتھ کھڑا ہونگا آپ کی حمایت نہیں کرونگا۔اگر ہم جلد بازی میں غلط فیصلہ کریں اور حکومت گرا دیں، کون آئے گا؟ کیا الیکشن ہونگے؟  کیا ہمارا ملک متحمل ہے انتخابات کاَ؟جب کوئی جمہوری قوت ہوگی نہیں، اپوزیشن والے چاہتے ہیں ان کو فری ہیڈ ملے اور جو چاہے اس ملک کے ساتھ کریں۔یہ ہمارے مخالفین کی سازش ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں