آئین پسندی کے موضوع کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے۔کراچی میں سیمینار

کراچی (رپورٹ: فرحان تنیو) حکومتِ سندھ کے محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے منعقد سیمینار کے شرکاء نے پاکستان کو درپیش تمام مسائل کے حل کے لیے 1973ع کے آئین پر من و عن عملدرآمد کو واحد لائحہ عمل قرار دیتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ متحرک جمہوریت اور متوازن معاشرے کی تشکیل کے لیے آئین پسندی کے موضوع کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے۔

محکمہ انسانی حقوق سندھ کی جانب سے 1973ع کے آئین کی گولڈن جوبلی تقریبات کے سلسلے میں "1973ع کے آئین میں بنیادی حقوق” کے موضوع پر مقامی ہوٹل میں سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں پی پی پی سندھ کے سینیٹر نثار احمد کھڑو، وزیراعلیٰ سندھ کے معاونِ خصوصی برائے انسانی حقوق سریندر ولاسائی، محکمہ انسانی حقوق سندھ کے سیکریٹری جاوید صبغت اللہ مہر، ایڈوکیٹ جنرل سندھ ایم حسن اکبر، پارلیمانی امور کے ماہر ظفراللہ خان ایڈوکیٹ، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کلپنا دیوی، ہیومن رائیٹس کمیشن سندھ کے چیئرمین اقبال ڈیتھو، سابق صوبائی سیکریٹری عبدالرحیم سومرو اور دیگر نے خطاب کیا۔

 وزیراعلیٰ سندھ کے معاونِ خصوصی برائے انسانی حقوق سریندر ولاسائی نے سیمینار کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچاس سال قبل 10 اپریل کو اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان نے 1973 کے آئین کو اپنا کر ملک میں جمہوری عمل کے استحکام اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک جامع اور ٹھوس فریم ورک فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 1973ع کا آئین ایک تاریخی دستاویز جس نے ملک میں وفاقی سیاست، جمہوری طرزِ حکمرانی، مالیاتع انصاف اور اداروں کے درمیان اختیارات کے توازن کی بنیادی خدو خال قائم کیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ  1973 کا آئین ان تمام بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، جو ہیومن رائیٹس ورلڈ ڈیکلریشن اور اقوام متحدہ کے بنیادی انسانی حقوق کنونشن میں دیے گئے ہیں۔

سریندر ولاسائی نے تاریخی حوالے دیتا ہوئے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آئین اور اس کے تقدس کے تحفظ کے لیے بھرپور جدوجہد کی، جبکہ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے 1973ع کے آئین کو اصل شکل میں بحال کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ملک میں جمہوری استحکام اور حقیقی وفاقی روح کو قائم کرنے کے لیے آئین پر اپنے یقین محکم اور بنیادی حقوق کو برقرار رکھنے کا دوٹوک اظہار کرتے ہیں۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی و پی پی پی سندھ کے صدر سینیٹر نثار احمد کھڑو نے کہا کہ ملک کی تاریخ دو ادوار پر محیط ہے، جن میں سے ایک غیر دستوری دور اور دوسرا دستوری دور ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر دستوری دور کے دوران عوام کو ووٹ کا حق دینے سے انکار کیا گیا اور ملک بنانے والوں پر پھبتیاں کسی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ دستوری دور کے آغاز سے ہی سیاستدانوں نے تدبر کا مظاہرہ کیا۔ بھٹو صاحب نے آئین کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے قیادت کی، جبکہ دیگر رہنماوَں نے بھی آئین سازی کے عمل میں تعاون کیا۔

سینیٹر نثار احمد کھڑو نے کہا کہ آرٹیکل 58 ٹو بی بھی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تھا، کیونکہ عوام کے ووٹوں سے آنے والی حکومت کو کسی فرد واحد کی جانب سے برطرف کرنا بنیادی حقوق کی پائمالی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تک آمریتوں کی شکل میں آئین پر دو حملے ہوچکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس آئین کی خاطر بیشمار لوگوں نے قربانیاں دیں ہیں۔ انہوں نے محکمہ انسانی حقوق پر زور دیا کہ وہ آئین پسندی کے موضوع کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

محکمہ انسانی حقوق سندھ کے سیکریٹری صبغت اللہ مہر کا کہنا تھا کہ ان کا محکمہ صوبے میں انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے حوالے سے اپنی ذمیداریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ایک پل کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے محکمے کی جانب سے آگہی سیمینارز، تربیتی ورکشاپ اور اس طرح کے دیگر اقدامات کے ذریعے معاشرے میں حقوق انسانی کے فروغ کے لیے کاوشیں جاری ہیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں