نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے مواقع کی یکساں فراہمی اولین ترجیح ہے: شہباز شریف

نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے مواقع کی یکساں فراہمی اولین ترجیح ہے: شہباز شریف

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ زیور تعلیم سے آراستہ قومیں ہی ترقی کرتی ہیں، ملک کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے مواقع کی یکساں فراہمی اولین ترجیح ہے، دانش یونیورسٹی دنیا کی ممتاز درسگاہوں کے مقابلے میں اپنا مقام پیدا کرے گی، دانش درسگاہ میں بہترین تعلیم، اساتذہ اور تحقیق کے حوالے سے طلباء مستفید ہوں گے۔

دانش یونیورسٹی آف ایمرجنگ سائنسز کے سائٹ ریویو کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ یونیورسٹی قابل اور بہترین اساتذہ، ریسرچ  اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹرز اور اپلائیڈ سائنسز کے حوالے  سے ایک بہترین دانش گاہ ثابت ہوگی۔ اسلام آباد، لاہور اور کراچی سمیت  پورے پاکستان میں بہت سی اچھی درسگاہیں ہیں لیکن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور ماڈرن سائنسز کی اپیلی کیشنز کے حوالے سے ملک میں کوئی مخصوص درسگاہ میرے ذہن میں نہیں ہے جس کو ہم دنیا کی کسی اور یونیورسٹی کے ہم پلہ قرار دے سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل  اور انتہائی عاجزی سے آج میں یہ عرض کرناچاہتا ہوں کہ یہ یونیورسٹی ان شاء اللہ سٹینفورڈ یونیورسٹی، آکسفورڈ یونیورسٹی، برکلے یونیورسٹی سمیت ایم آئی ٹی اور دنیا کی  ممتاز درسگاہوں کی ہم پلہ یونیورسٹی ہوگی۔اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو ان شاء اللہ آئندہ سال 14 اگست 2026 کو اس یونیورسٹی کا پہلا حصہ آپریشنل ہو جائے گا۔

انہوں نے تقریب کے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے دنیا بھر میں تعلقات اور رابطے ہیں، ہم اس عظیم درسگاہ کی فیکلٹی کے لئے آپ سے رابطے کریں گے اور آپ کی بھرپور مدد لیں گے۔اس یونیورسٹی کے آپریشنز اور فنکشنز سے حکومت پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہوگا جس طرح پنجاب میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کا قانون بنایا تھا کہ یہ ایک فائونڈیشن ہوگی جس کی گورننگ باڈی ہوگی جو اس کو چلائے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ الحمدللہ آج وہ ادارہ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے جہاں پر جگر اور گردے کی ہزاروں پیوندکاریاں ہو چکی ہیں۔مریضوں کے علاج معالجے کا بہترین انتظام موجود ہے۔اسی طرز پر یہ یونیورسٹی بھی کام کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پورے پنجاب میں دانش سکولوں کے انتہائی ذہین اور فطین بچے اور بچیاں جو مالی استطاعت نہیں رکھتے  تھے،جن کے حالات ناقابل بیان تھے، بعض بچے جن کے والدین دنیا سے جا چکے تھے انہوں نے وہاں پر داخلہ لیا، دانش سکول نے ان کو والد اور والدہ کا سایہ دیا اور ان کو بہترین تعلیم فراہم کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دانش سکولوں میں مارکیٹ کے مطابق اساتذہ کو تنخواہوں کی پیشکش کی تو ان میں سے بعض اساتذہ جو انتہائی اچھی جگہوں پر تعلیم وتربیت فراہم کر رہے تھے تو اپنے علاقوں میں بچوں اور بچیوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کےلئے قائم دانش سکولوں میں چلے گئے جو ان کی بہت بڑی قربانی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک خاتون ٹیچر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے سفارتخانے میں خدمات فراہم کر رہی تھیں لیکن قومی خدمت کے جذبے کے تحت کم تنخواہ پر بھی دانش سکول میں پڑھانے کےلئے آ گئیں۔اگر دانش سکول نہ ہوتے تو دیہی علاقوں کے انتہائی قابل بچے اور بچیاں تعلیم کے زیور سے محروم رہتے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں