کراچی:وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ آبپاشی اور ورکس اینڈ سروسز ڈپارٹمینٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا۔اجلاس میں صوبائی وزراء، ناصر شاہ، جام خان شورو، علی حسن زرداری، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری ورکس محمد علی کھوسو اور دیگر نے شرکت کی
وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی میں بتایا گیا کہ محکمہ ورکس اینڈ سروسز کی کل 799 اسکیمیں 166 بلین روپے کی لاگت سے جاری ہیں، اس سال 799 اسکیموں کے لیئے ایلوکیشن 55 بلین روپے ہے اور 37 بلین روپے خرچ کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سندھ نے کہا کہ 111 بلین روپے کی تھرو فارورڈ ہے،مالی سال ختم ہونے سے پہلے اپنے کام مکمل کریں،کام کا معیار ہر صورت بہترین ہونا چاہیے۔اس سال 25-2024ء میں ہم نے کوئی نئی اسکیم نہیں رکھی بلکہ جاری اسکیموں کو مکمل کر رہے ہیں۔
اجلاس میں بتایا کیا کہ لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین سسٹم 115.4 بلین روپے کی وفاقی پی ایس ڈی پی کی تھی،اب یہ اسکیم نظر ثانی کے بعد 172 بلین روپے کی ہوگئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے سی ڈی ڈبلیو پی سے اسکیم منظور کرنے کی ہدایت دیدی
اجلاس کو آگاہی دی گئی کہ ابھی تک اس اسکیم پر کچھ خرچ نہیں ہوا ہے،اس سال اسکیم کے لیئے 100 ملین روپے مختص ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے جام شورو پھاٹک روڈ کو کوٹڑی بئراج تک بنانے کی ہدایت دیدی
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ پرانی سڑک ہے اس کو ڈوئل کیرج وے بنایا جائے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کے فور پروجیکٹ کے تحت کے بی فیڈر اور کینجھر جھیل کی بحالی، کے بی فیڈرکی لائننگ کا جائزہ لیا،یہ پروجیکٹ 39.9 بلین روپے کا ہے، جس میں وفاقی حکومت 19.4 بلین روپے فراہم کر رہی ہے
وزیراعلیٰ سندھ کو اجلاس میں آگاہی دی گئی کہ اس وقت تک 4 بلین روپے خرچ ہوچکے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کام کی رفتار کو تیز کرنے کی ہدایت دیدی۔
