وزیراعظم پاکستان نے سحر اور افطار کی تیاری کے لیے گھریلو صارفین کو اتوار کے روز گیس کی فراہمی کے دوران پیش انے والی شکایات کا فوری نوٹس لیا ہے۔
جاری بیان کے مطابق ان شکایات کہ ازالے کے لیے اتوار ک شام کو افطار کے فوری بعد سیکرٹری کی سطح پر اور پھر رات گئے منسٹر لیول پر سوئی کمپنیوں کے منیجنگ ڈائریکٹرز اور ان کی سینئر انتظامیہ کے ساتھ ہنگامی میٹنگیں بلائی گئیں۔
ان میٹنگز میں ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر، دونوں سوئی کمپنیوں نے صارفین کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ ماہِ رمضان کے لیے فیلڈ سٹاف اور کنٹرول رومز کے ذریعے گیس پریشر کی باقاعدہ نگرانی کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں۔
ان میٹنگز کے تناظر میں سوئی سدرن گیس کمپنی مندرجہ ذیل فوری اقدامات کر رہی ہے۔
ایس ایم ایسز پر گیس پریشر میں اوسطاً دس فیصد اضافہ کیا جائے گا جس کے نتیجے میں گیس کے بہاؤ میں بہتری آئے گی۔
گیس ڈسٹریبیوشن مراکز کے اخری سروں پر واقع علاقوں اور ان علاقوں میں جن میں کم گنجائش کا نیٹ ورک موجود ہے ان کو سحری اور افطار کے مقررہ وقت سے 30-45 منٹ پہلے کھول دیا جائے گا جس کے نتیجے میں ان علاقوں کے سسٹم پریشر میں بہتری آئے گی۔
سوئی سدرن گیس ٹرانسمیشن لائن پیک کو مزید بڑھانے اور کمی کو پورا کرنے کے لیے اضافی 20 ایم ایم سی ایف ڈی گیس حاصل کرے گا۔
ہیڈ آفس اور ریجنل دفاتر میں گیس کی فراہمی کی مانیٹرنگ کے لیے کنٹرول روم بنائے جائیں گے جو روزانہ کی بنیاد پر نیٹ ورک کی صورتحال کی نگرانی کریں گے۔
گیس کے کم پریشر کی شکایات کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور اس سلسلے میں ہر روز صبح کو ریجنل ذمہ داران انتظامیہ کو رپورٹ پیش کریں گے۔
ان اقدامات کے تحت ہونے والی پیش رفت پر سوئی سدرن میڈیا کے دوستوں کو مطلع کرتا رہے گا۔
