آباد کے تمام مسائل حل کیئے جائینگے: ڈی جی ایس بی سی اے
کراچی:سندھ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ڈائریکٹر جنرل اسحاق کھوڑو نے کہاہے کہ غیرقانونی تعمیرات کو مسمارکیا جائے گا، تعمیراتی پروجیکٹس کی منظوری 45 روز میں دی جائے گی،بلڈنگز بلندی کے زیرالتوا64 میں سے 32 منظور ہوچکے باقی بھی جلد منظورکیے جائیں گے،بلڈرز اور ڈیولپرز کے لائنسزآج ہی جاری کیے جائیں گے،آباد کی مشاورت سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی حیدرآباد کے ریجنل ڈائریکٹر کا تقرر کیا جائے گا،صوبے بالخصوص کراچی شہر کی ترقی کے لیے ایس بی سی اے اورآباد ایک پیچ پرہیں۔یہ بات انھوں نے آباد ہاؤس کے دورے کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی، سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید، وائس چیئرمین طارق عزیز،چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی اور بلڈرز اور ڈیولپرز کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
ڈی جی اسحاق کھوڑو نے مزید کہا کہ تعمیراتی شعبہ معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار اداکرتاہے، تعمیراتی صنعت کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ غیرقانونی تعمیرات ہیں۔ آباد کے ساتھ مشاورت کرکے غیرقانونی عمارتوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی
انھوں نے کہا کہ حیدرآباد میں بیٹرمنٹ کی مد میں وصول کیے گئے 45 کروڑ روپے واسا کو ترقیاتی کام کیلیے دیے گئے لیکن واسا نے وہ رقم تنخواہوں کی ادائیگی پر خرچ کردیے، فیصلہ کیا ہے کہ جس علاقے سے بیٹرمنٹ چارجز کی مد میں وصول رقم کی گئی اسی علاقے کے ترقیاتی کاموں پر خرچ کیے جائیں گے۔
ڈی جی اسحاق کھوڑو نے کہاکہ تعمیراتی پروجیکٹس کی منظوری میں تاخیر کا سبب بننے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اعلان کردہ کمرشل روڈ کے تعمیراتی منصوبوں کی این او سی جلد سے جلد جاری کی جائے گی۔
اس موقع پر چیئرمین آباد حسن بخشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات نے کراچی کا انفرا اسٹرکچر تباہ کردیا ہے،انھوں نے ڈی جی ایس بی سی سے کہا کہ کراچی اور پورے سندھ میں جہاں سے بیٹرمنٹ چارجز وصول کیا جاتا ہے انہی علاقوں کی ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جانا چاہیے۔
حسن بخشی نے کہا کہ 15 سے 20 سال پرانے تعمیراتی منصوبوں کی این او سیز کی توسیع کی جائے۔ تعمیراتی منصوبوں کی منظوری میں شفافیت کے لیے ایس بی سی اے کو ڈیجیٹلائز کیا جائے۔سندھ حکومت اور آباد ایک پیچ پر ہیں۔تعمیراتی پروجیکٹس کی این او سیز کم سے کم وقت میں جاری کی جائیں۔کراچی کی تعمیراتی صنعت کو درپیش چیلنجز دور کرنا ضروری ہے تاکہ یہ شعبہ ملکی معیشت میں مثبت کردار ادا کر سکے۔
چیئرمین آباد نے ڈی جی ایس بی سی اے سے مطالبہ کیا کہ ادارے کے تمام افسران کو اس حوالے سے واضح ہدایات جاری کی جائیں تاکہ تعمیراتی منصوبے غیر ضروری رکاوٹوں کے بغیر آگے بڑھ سکیں۔
اس موقع پر آبادکے سینئروائس چیئرمین سید افضل حمید نے اپنے خطاب میں آباد کے مسائل سننے پر ڈی جی اسحاق کھوڑو سے تشکر کا اظہار کیا اور کہا کہ آبادکی پوری کوشش ہے کہ ملک کی خوشحالی میں بھرپور کردار ادا کیا جائے، ڈی جی کے کلمات سے بلڈرز اور ڈیولپرز کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ تعاون قائم رہے گا۔ آخر میں ڈی جی ایس بی سے اے نے بلڈرز اور ڈیولپرز کے مسائل سنے اور ان کے حل کے لیے فوری احکامات جاری کیے۔
