اقتداری پارٹيز، عدليہ اور اسٹيبلشمنٹ کے تضادات سے ملازمت پيشہ افراد گم ہو چکے،ایاز لطیف پلیجو

حيدرآباد: قومی عوامی تحریک کے سربراھ ایاز لطیف پلیجو نے کہا ہے کہ ‏اقتداری پارٹيز، عدليہ اور اسٹيبلشمنٹ کے 2016 سے تضادات اور ٹکراؤ کی وجہ سے قومی ايجنڈا سے کسان، مزدور، طلبہ، خواتين، ملازمت پيشہ افراد سب گم ہو چکے ہيں. نہ کوئی دس بيس سالہ ترقياتی پلان ہے، نہ کوئی تعليم صحت، زراعت يا صنعتوں پر توجہ ہے نہ بيروزگاری، غربت اور مہنگائی پر پندره سال سے گورننس اور عوامی سہولتوں کا شديد بحران ہے، نچلا اور متوسط طبقہ پتھر کے زمانے ميں جينے پر مجبور ہیں  اور سياسی پارٹيز کے مفادات کی جنگ ميں نشانہ پاکستانی عوام بن رہا ہے.

 ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ ملک میں حقیقی جہموریت کو آنے ہی نہیں دیا گیا، مینیج کرکہ لانے والے حکمرانوں اور عوامی قوت کو دبا کر ملکی حالات کو سنگین حالات میں تبدیل کردیا ہے، پاکستان انصاف، آئین اور قانون کی بالادستی اور حکمرانی کے بغیر آگے نہیں بہڑ سکتا، پاکستان کو ایک نئے معاشی، آئینی اور سماجی چارٹر کی ضرورت ہے، سیاسی تنظیموں کے مفادات کی جنگ کی وجہ سے پاکستانی عوام نشانہ بن رہی ہے۔

ان کا کہنا تہا کہ پاکستان اس وقت سنگین اقتصادی بحران کی طرف جا رہا ہے، جبکہ پاکستان اس وقت شدید بحران میں ہے اور م پاکستان شدید مسائلہ کی جکڑ میں آگیا ہے، ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی نظریں اقتدار کی فروغ اور لینے دینے میں ہیں، پاکستان کی 80 فیصد عوام غربت کی چکی میں پیس رہی ہے، لوگ بوکھ اور بدحالی کا شکار ہیں جبکہ بے روزگاری حد سے تجاوز کر گئی ہے، ایاز لطیف پلیجو کا کہنا تھاکہ پاکستان میں عوام کی قوتوں کو دبانے کی وجہ سے پاکستان ہمیشہ بحران کا شکار رہا ہے، جہموریت کا مطلب ہے برابری، جبکہ یہاں ناانصافی اور غریب لوگوں کو نظرانداز کرکہ امیر لوگوں کے لیے جہموریت قائم ہے۔

 ایاز لطیف پلیجو کا مزید کہناہے کہ سندھ میں کرپشن کرنا حق سمجہا جاتا ہے۔ کل کے کنگال آج عوام کی دولت لوٹ کر ارب بتی بن گئے ہیں۔ سندھ کے تمام اداروں کو کرپشن کی کینسر نے تباہ و برباد کریا ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں