کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں سندھ میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سندھ کے وزیراعلی سید مراد ولی شاہ، سینئر وزیر شرجیل میمن اور وزیر برائے توانائی سید ناصر حسین شاہ موجود تھے
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعلی سندھ کے معاون خصوصی برائے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ قاسم نوید قمر نے بریفنگ دی۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو زراعت، ماہیگری اور الیکٹرانک وہیکل چارجنگ سمیت مختلف شعبہ جات کے انفراسٹرکچر میں بہتری کیلئے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں پر بریفنگ
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ میں زراعت کے شعبے میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے انفراسٹرکچر میں بہتری کے منصوبوں سے چاولوں، آلو، کیلے، کینو، آم، امرود اور کھجور سمیت دیگر فصلوں کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوگا، سندھ میں ماہیگیری کی صنعت کی برآمد بڑھانے کیلئے پیکجنگ اور پراسسنگ کے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔سندھ میں عالمی اداروں سے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے الیکٹرانک وہیکل چارجنگ انفراسٹرکچر کے منصوبوں سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ صحت سے انفراسٹرکچر تک سندھ حکومت پبلک پرائیوٹ منصوبوں کے ذریعے عوام کی زندگیوں میں بہتری لارہی ہے، زراعت اور ماہیگیری سمیت پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں سے ہم ملک میں معاشی انقلاب لاسکتے ہیں، سندھ حکومت نے ملکی معیشت کی مضبوطی کیلئے وطن عزیز کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کی صورت میں ایک کامیاب معاشی فارمولا دیا ہے۔شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے 1993 میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کا وژن دیا جس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں
اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ اور پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ڈی جی اسد ضامن بھی شریک تھے
