ہمیں الزامات کا کھیل ختم کرنا ہوگا: شاہد خاقان عباسی

لاہور: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ رول آف لاء کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ میں ماضی کی سب غلطیوں کا اعتراف کرتا ہوں، پنتس سال اس نظام میں گزاریں ہیں، بغیر پڑھے آئینی ترمیم ہو گئی ہے، آئین غیر متوازن ہو گیا۔

تھنک فیسٹیول 2025 میں شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جب فوج آئینی حدود سے باہر آتی ہے ملک کا نقصان ہوتا ہے، لیکن فوج کبھی بھی سیاست دان کے بغیر آئینی حدود سے باہر نہیں آتی۔ فوج کو آئینی حدود میں رہنا پڑے گا۔جہاں الیکشن چوری ہو گا  وہاں سیاسی اور معاشی استحکام نہیں آئے گا، ہمیں آئین پر عمل کرنا ہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ جس ملک میں رول آف لاء نہیں ہو گا وہ ترقی نہیں کر سکتا میں، میں ماضی کی سب غلطیوں کا اعتراف کرتا ہوں، پنتس سال اس نظام میں گزاریں ہیں، بغیر پڑھے آئینی ترمیم ہو گئی ہے، آئین غیر متوازن ہو گیا۔16 سال سے پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت کر رہی ہے، پی ٹی آئی کے پی میں 11 سال سےحکومت کر رہی ہے اور ن لیگ کئی سال سے اقتدار میں ہے لیکن کسی نے صحت ، تعلیم یا انفراسٹرکچر جیسے مسائل کو حل نہیں کیا

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی بھی 2018 میں اپنی طاقت سے نہیں جیتے اس حقیقت کو ماننا چاہیے، اس لیے ہمیں ماضی بھلا کر آگے بڑھنا چاہیے اور ملک کے بڑوں کو مل کر حل نکالنا پڑے گا، سیاست دانوں کو ملک بچانے کے لیے بڑے فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔اصول کے مطابق جنگ ضرور لڑیں، میں نے پہلی بار تنخواہ دار ظبقے پر ٹیکس کم کرایا، 2018 میں یہ نافذ ہوا سالانہ 12 لاکھ روپے تک ٹیکس نہیں تھا، سیاست کی بدقسمتی ہے جب آپ سیاست چھوڑتے ہیں دوستی یاری سوشل لائف ختم ہوجاتی ہے، ہمیں الزامات کا کھیل ختم کرنا ہوگا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں