کراچی: ملیر ایکسپریس وے کی پہلے فیض کے افتتاح کے موقعے پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شا کا کہنا تھا کہ جب ہماری حکومت آئی تھی تو کراچی میں امن امان کی صورتحال بہت خراب تھی ،سندھ حکومت نے شاہراہ فیصل، ماڑی پور، طارق روڈ کی تعمیرنو کی ہے،کراچی میں گرین لائن بنائی گئی ہے، یلو، اورنج اور ریڈ لائن پر کام جاری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ این آئی سی وی ڈی، جے پی ایم سی اور این آئی سی ایچ میں بہترین سہولیات فراہم کر رہے ہیں،پیپلز اسکوائر اور منوڑا بیچ کی تعمیر کراچی کے شہریوں کے لیئے ایک بہترین تفریحی مقامات ہیں۔کراچی ڈھائی کروڑ سے زائد آبادی کا شہر ہے۔کراچی میں بغیر منصوبہ بندی کر کے کام کیا گیا۔ہمارا ساتھ دیں،آئین سب مل کر کراچی کو بہترین شہر بنائیں،کراچی پورے ملک کو چلاتا ہے اور میری خواہش ہے سندھ کے تمام شہر ایسی ترقی کریں
ان کا کہنا تھا کہ بری باتیں کرنے کی بجائے ابھی باتیں کی جائیں تو ملککے لیئے بہتر ہوگا،سندھ کے شہر کراچی میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے لوگ رہتے ہیں،یہ منصوبہ شہید بینظیر بھٹو کو پروجیکٹ تھا، ان کے صاحبزادے چیئرمین بلاول بھٹو نے افتتاح کیا ہے،اسی سال ہم شاہراہ بھٹو کو ایم نائن سے منسلک کر دینگے،نگران حکومت کا بھی شکرگزار ہوں انہوں نے اس منصوبے کی بھر پور حمایت کی تھی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کورنگی کاز وے پر ایک نیا پل بنا رہے ہیں،بلدیا میں ایک 100 بستر کا اسپتال بنا چکے اب اس کا صرف افتتاح ہونا ہے،گاربیج اسیشن پر بھی تیزی سے کام جاری ہے،کراچی ڈھائی کروڑ کا شہر ہے اور یہ شہر بغیر منصوبہ بندی کے توسیع ہوئی ہے،اس ان پلانڈ شہر کے بڑھنے میں پیپلزپارٹی حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں بلک یہ لوکل گورنمنٹ آرڈر کا نتیجہ ہے،اب 12 کلومیٹر کا پل دریائے سندھ پر گھوٹکی- کند ھ کوٹ پر کام تیزی سے جاری ہے،شاہراہ بھٹو کا زیرو فیز بھی بنائینگے جوکراچی پورٹ سے ملائینگے،یہ منصوبہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے خواب کی تعبیر ہے ۔چیئرمین بلاول بھٹو کی آمد کا بہت شکریہ۔
