کراچی: صوبائی وزیر برائے لائیواسٹاک اینڈ فشریز محمد علی ملکانی سے تھر فاؤنڈیشن کے وفد کی ملاقات, اسلام کوٹ میں مویشیوں کی شماری, ویکسینیشن, کسانوں کی تنظیم کاری سمیت مختلف نقاط پر مبنی منصوبے پر تفیصیلی تبادلہ خیال کیا گیا.
وفد میں تھر فاؤنڈیشن کے مینیجر امام علی ڈیتھو, سی ایس آر مینیجر تیجویر سنگھ سوڈھا اور ایجوکیشن مینیجر اللہ ورایو حاجانو شامل تھے.
ملاقات کے دوران صوبائی وزیر برائے لائیو اسٹاک اینڈ فشریز محمد علی ملکانی نے وفد کو خوش آمدید کیا اور کہا کہ سندھ میں سب سے زیادہ مویشی تھر میں ہیں اور وہاں محکمے کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے, سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں تمام صوبوں سے آگے ہے اور ہم لائیواسٹاک کی بہتری کے لیے بھی نجی شعبے کے ساتھ ملکر کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں
اس موقع پر تھر فاؤنڈیشن کے مینیجر امام علی ڈیتھو نے انکی تنظیم کی طرف سے تھر میں مویشیوں کی بہتری کے لیے محکمہ لائیو اسٹاک کے ساتھ ملکر کام کرنے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا
تھر فاؤنڈیشن اور محکمہ لائیواسٹاک تھر کی تحصیل اسلام کوٹ میں مویشیوں کی شماری, کسانوں کی تنظیم کاری اور مویشیوں کی ویکسینیشن کے لیے لائحہ عمل مرتب کرینگی, جس سے مقامی کسانوں کو فائدہ پہنچے گا.
وزیر لائیواسٹاک محمد علی ملکانی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تھر میں موجود تمام مویشیوں کی پیداوار میں اضافہ ہو, مقامی نسل کی افزائش اور مقامی نوجوانوں کو لائیو اسٹاک کے شعبے مختلف تربیبتی کورسز کروائیں جن سے انکے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں.
ملاقات میں تھر فاؤنڈیشن اور محکمہ لائیواسٹاک کی اشتراکے منصوبے میں مختلف معاملات پر غور کیا گیا اور طئے پایا کہ تھر کے کسانوں اور مویشیوں کی بہتری کے لیے سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام کی تکنیکی خدمات بھی حاصل کی جائینگی.
