کراچی: اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سابق نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات کو احترام کے دائرے میں رکھتے ہوئے قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔ہمیں من حیث القوم اپنے اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں سوالات الجھنے کے لئے نہیں بلکہ سمجھنے کے لئے کرنے چاہیئے،ہمارے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کمی نہیں،نوجوان پاکستان کے لئے مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ہمیں حقائق کے مطابق تنقید اور اختلاف رائے رکھنے کاپوراحق ہے لیکن بغیر تحقیق کے منفی پروپیگنڈے سے گریزاور اپنے سوچ کے زاویے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔دنیابنی نوع انسان کوسائنس وٹیکنالوجی اور بالخصوص آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ثمرات سے فیضیاب کرنے کے لئے کوشاں ہے جبکہ ہمارے ملک میں آج بھی خودکش حملہ آورتیارہورہے ہیں جولمحہ فکریہ ہے۔ہمیں تنقید سے پہلے اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت اور نئے سرے اور نئے عزم کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے سندھ ایچ ای سی کے زیر اہتمام اور جامعہ کراچی کے اشتراک سے ڈاکٹر اے کیوخان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی میں منعقدہ لیکچر بعنوان: ”ملک کے نوجوانوں میں قومی یکجہتی اورقومی اتحاد کا فروغ“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انوارالحق کاکڑ نے مزید کہا کہ ہمارے ملک میں آج بھی جنگ ہارنے کاطعنہ دیاجاتاہے جو ہمارے بیمار اذہان کی عکاسی کے لئے کافی ہے۔کیا ہم دنیا میں جنگ ہارنے والی پہلی قوم ہیں،دنیا کی ایسی کونسی قوم ہے جو جنگ نہیں ہاری،جوجنگ لڑے گاہ وہ یا جیتے گا یاہارے گا۔پاکستان میں کچھ لوگ اور قوتیں طعنہ زنی سے اس قوم کی مینٹل نشوونماکرناچاہتے ہیں جبکہ دیگر جنگیں ہارنے والی اقوام طعنہ زنی نہیں کرتے کیونکہ وہ بیماراذہان نہیں رکھتے۔ہم صرف تنقید پر توجہ دیتے ہیں ہمیں اس تنقیدی ماحول سے نکلناہوگا۔
انہوں نے ہٹلر اور جرمن نازی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں لیکن جرمن معاشرے میں اس کا ذکر تک نہیں ہوتا،کیونکہ وہ زندہ لوگ ہیں جبکہ ہم گدھ ہیں اور کچھ کرنے کے بجائے صرف طعنہ زنی کرتے ہیں۔ماضی میں مغرب میں قومیت کے نام پر ہزاروں لاکھوں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے مگر اس پر کسی قسم کا پروپیگنڈانہیں کیاجاتا۔ملک کی سلامتی،ترقی اور فلاح وبہبود کے لئے مکالمے اوربردداشت کے کلچر کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اختلافات رکھنے کے باوجود دوسروں کی کو رائے سننے کی ضرورت ہے اسی صورت ہم ایک پرامن معاشرے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں۔
انوارالحق کاکڑ نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گالم گلوچ یا کسی کے گریبان میں ہاتھ ڈالناتنقیدی سوچ نہیں بلکہ بدتہذیبی اور عدم برداشت کی واضح مثال ہے۔میں اپنے بچپن سے سنتاآرہاہوں کہ پاکستان منصوعی طور پر بنایاگیا ہے اور اس بیانیے کو فروغ دینے کی ناکام کوشش تاحال جاری ہے۔ہمیں اس بیانیے کو ختم کرنے کے لئے من حیث القوم کلیدی کردار اداکرنے کی ضرورت ہے اور دشمن قوتوں کے اس کے بیانیے کو جڑسے ختم کرنے کے لئے متحد ہونے کی ضرور ت ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ کو تنقیدی سوچ اور تحقیق سے کوئی نہیں روکتا،آپ تحقیق کے میدان میں نام پیداکرے۔ریاست سے بڑھ کر کچھ نہیں ہمیں ریاست کے مفادات کو مدنظررکھتے ہوئے اپنے سوچ کے زوایے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی ہمارااثاثہ اور مستقبل ہیں اور آپ کو ہی اندرونی اور بیرونی سازشیں کرنے والے دشمن عناصر کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا کردار اداکرناہے۔
ایک سوال کے جواب میں انوارالحق کاکڑنے کہاکہ عسکریت پسندوں کی ایک سوشل اور پولیٹیکل سپورٹ ہے اوروہ اس پر جغرافیہ کو تبدیل نہیں کرسکتے،ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ باقی پاکستان کو کنفیوژ کرکے اپنے سا تھ ملالیں یا اپنی مقصد کا حمایتی بنالیں اور یہ بیانیے کی جنگ ہے،ہم سب اور بالخصوص ہماری نوجوان نسل کو اس بیانیے کو شکست دینے کی ضرورت ہے۔
چیئر مین سندھ ایچ ای سی پروفیسرڈاکٹر ایس ایم طارق رفیع نے کہا کہ اختلاف رائے ایک فطری چیز ہے لیکن یہ ہمارے قومی مفادات،مذہب اور ملک کی سالمیت سے برترنہیں،ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس اور اس کی ادائیگی کو یقینی بناناچاہیئے۔نوجوانوں کی کردارسازی میں جامعات کلیدی کرداراداکرسکتی ہیں کیونکہ تربیت کے بغیر تعلیم بے مقصد ہوجاتی ہے۔
ڈاکٹر طارق رفیع نے مزید کہا کہ جامعات، علم اور اختراع کے انکیوبیٹر کے طور پر مستقبل کے رہنماؤں کے ذہنوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ طالب علموں کو متنوع نقطہ نظر کے ساتھ مشغول ہونے کی ترغیب دے کرجامعات ایسا ماحول بنا سکتی ہیں جہاں کھلے مکالمے کے ذریعے تقسیم کو ختم اور برداشت،یکجہتی اور اتحاد کے کلچر کو فروغ دیاجاسکتاہے۔سیاسی پولرائزیشن کو ختم کرنے میں نوجوانوں کے اہم کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، پاکستان کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو تبدیلی کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کے لیے کس قدر موثر طریقے سے شامل اور بااختیار بناتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی پولرائزیشن پر اگر توجہ نہ دی گئی تو قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور ان اداروں کو غیر مستحکم کر سکتی ہے جو عوام کی خدمت کرنے والے ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان کے نوجوان ملک کو مضبوط اور مستحکم مستقبل کی طرف گامزن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔سیاسی پولرائزیشن کو حل کرنے کے لیے نوجوانوں کا سب سے طاقتور طریقہ تعلیم کے ذریعے ہے۔ تعلیم صرف علم حاصل کرنے کے بارے میں نہیں ہے، یہ تنقیدی سوچ، ہمدردی، اور مختلف نقطہ نظر کو سمجھنے کے بارے میں ہے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا کہ معاشرے میں اصلاحات کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے برداشت کے مادے کو بڑھاناپڑے گا۔ہم وہ چیز سنناچاہتے ہیں جس کے بارے میں ہم فیصلہ کرچکے تھے جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحث ومباحثے، سننے اور پڑھنے کے بعد کوئی نتیجہ اخذ کریں۔قوم کی تعمیر کے لئے معاشی،سماجی،سیاسی،ادارتی اصلاحات،انسانی حقوق کی فراہمی اور قانون پر عملدرآمد ناگزیر ہوتاہے۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ ہم قانون پر عملدرآمد کئے بغیر انسانی حقوق کے چیمپئن بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہوناچاہیئے کیونکہ دنیا بھر میں ہماری پہچان پاکستان سے ہے اس کے بغیر ہماری کوئی شناخت نہیں۔ہمیں پاکستان کو نقصان اور اس کی معیشت کو کمزورکرنے والی قوتوں کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے۔نظام کو صحیح کرنے کے لئے پہلے ہمیں خود درست ہونا پڑے گابصورت دیگر ہم اس ملک کو مضبوط نہیں بناسکتے۔انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دوسروں کی رائے سننے اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
