وزیر اعلی پی کے اور بشری بی بی نے پوری سرکاری مشنری استعمال کی:شرجیل انعام

کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ اختلافات اور احتجاج کا وقت ہوتا ہے، حساس موقعوں پر احتجا کی کال دینا اچھی روایت نہیں۔ کے پی کے وزیر اعلی اور بشری بی بی نے پوری سرکاری مشنری استعمال کی

میڈیا سے گفتگو میں شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ پولیس کو یرغمال بنایا گیا، پولیس، رینجرز اور ایف سی کے جوانوں کو شہید کیا گیا،پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ ان کو لاشیں ملیں جن پر وہ سیاست کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ متحرک نظر آئے، عمدہ حکمت عملی سے انہوں نے پی ٹی آئی کی خواہش پوری ہونے نہیں دی،بشری بی بی عمران خان سے بھی دو ہاتھ آگے نکلیں۔بشری بی بی نے عوام کو مروانے کی بھرپور کوشش کی۔

شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ کنٹینر پر کھڑے ہوکر بول رہے تھے کہ عمران خان کو ساتھ لے کرجائیں گے، لیکن سب سے پہلے سی ایم کے پی اور بشری بی بی فرار ہوئیں،عوام ایسے لوگوں کی باتوں میں نہ آئے جو ان کو تشدد کی سیاست پر اکسائے،نو مئی کے جیسے واقعات ہوئے، 9 مئی ایک اندوہناک دن تھا۔بشری بی بی کا احترام کرتے ہیں، لیکن ان کا کردار منفی رہا۔

سینیئر وزیر  شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کسی بھی ملک میں مسلح جتھے لے کر پولیس پر حملوں کی اجازت نہیں۔جنہوں نے ہتھیار اٹھا رکھے تھے ان کو قانون کے کٹہڑے میں لایا جائے۔احتجاج کا مقصد یہ نہیں کہ مسلح جتھے لے کر ملک اور وفاقی دارالحکومت کو یرغمال بنایاجائے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں