پاکستان سدرن افریقہ ٹریڈ فیڈریشن کے وفد کا پی آئی ڈی کراچی کا دورہ،ڈی جی ارم تنویر سے ملاقات

کراچی: پاکستان سدرن افریقہ ٹریڈ فیڈریشن کے چیئرمین محمد رفیق میمن کی قیادت میںPSATF کے ایک وفد نے جمعہ کے روز کراچی میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کے دفتر کا دورہ کیا اور ڈائریکٹر جنرل پی آئی ڈی ارم تنویر سے ملاقات کی۔

میٹنگ میں پی ایس اے ٹی ایف کے چیف کوآرڈینیٹر/فارن افئرز چیف  ذکی احمد شریف، سندھ کے صدر عبدالستار شیخ، شاہ جہاں ہاشمانی، مخدوم مشہود، سید معیز الدین، میڈیا کوآرڈینیٹر اقبال عزیز، اور عدیل عارف نے شرکت کی۔

محمد رفیق میمن نے پی آئی ڈی کے کردار کو سراہتے ہوئے اسلام آباد، خیبر پختونخوا اور کراچی میں پی ایس اے ٹی ایف وفد کے دورے کی اچھی کوریج پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اپنے دورے کے اہم مقاصد اور حکومتِ پاکستان بالخصوص ایس آئی ایف سی، وزارتِ تجارت، اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ساتھ رابطوں پر روشنی ڈالی، جنہیں انہوں نے کامیاب اور نتیجہ خیز قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سدرن افریقہ ٹریڈ فیڈریشن کو اس کے اقدامات میں مکمل حمایت حاصل ہوئی جس کا مقصد جنوبی افریقہ کی بڑی اور کثیر الملکی مارکیٹ سے فائدہ اٹھانا اور تجارتی حجم میں اضافہ کرنا ہے۔

رفیق میمن نے وزارتِ خوراک و تحقیق، اسلام آباد چیمبر آف کامرس، جنوبی افریقی ہائی کمیشن، خیبر پختونخوا میں بورڈ آف انویسٹمنٹ، سرحد چیمبر آف کامرس اور کراچی میں کے سی سی آئی، ایف پی سی سی آئی، اور کاٹی کے عہدیداروں و ارکان اور دیگر تجارتی اداروں اور پیداواری یونٹس کے ساتھ ملاقاتوں کو کامیاب قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ تمام پیشرفت پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین دوطرفہ تجارتی حجم میں اضافے میں معاون ثابت ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس دورے کے دوران پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے اور افریقی خطے میں برآمدات بڑھانے کے لئے آئندہ کے لائحہ عمل اور حکمت عملی بھی طے کی گئی۔ پی ایس اے ٹی ایف کے چیف کوآرڈینیٹر جناب ذکی احمد شریف نے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تجارتی حجم اور اس کے فروغ کے مستقبل کے امکانات کی تفصیلات بتائیں۔

انہوں نے عالمی بینک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا جس کے مطابق افریقی خطہ جو اس وقت 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت پر مشتمل ہے، 2050 تک 26 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ پاکستان کا اس خطے کے ساتھ صرف 2 بلین ڈالر کا تجارتی حجم ہے جو کہ بہت کم ہے، اور انہوں نے اس حجم کو بڑھانے کے لئے حکومتی اور نجی سطح پر فوری اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مستقبل میں افریقی مارکیٹ میں بہتر حصہ حاصل کیا جا سکے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں