کراچی میں بلدیاتی صورتحال بدترین ہوتی جارہی ہے: سیف الدین ایڈوکیٹ

کراچی: جماعت اسلامی کے نائب امیر و بلدیہ عظمیٰ میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہاکہ پیپلز پارٹی 100سال میں بھی کراچی ٹھیک نہیں کرسکتی، عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہورہے اور شہر میں بلدیاتی صورتحال بدترین ہوتی جارہی ہے، شہر میں بلدیاتی معاملات دن بدن ابتری کاشکار ہیں۔ یہ بات انہوں نے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں سٹی کونسل کے ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔

اس موقع پر ڈپٹی پارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی قاضی صدر الدین،کوآرڈینیٹر نعمان الیاس اور یوتھ کونسلر تیمور بھی موجودتھے

سیف الدین ایڈوکیٹ نے کاہ کہ کراچی آلودگی میں پوری دنیا میں دوسرے نمبرپر آگیا ہے، شہر میں روزانہ 200کے قریب کتے کے کاٹنے کے کیسز ہورہے ہیں،گزشتہ دس ماہ میں 12افراد سگ گزیدگی کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی 16سال کی نااہلی اور بد ترین کارکردگی سے یہ بات ثابت ہوچکی کہ اگر پیپلز پارٹی سو سال بھی حکومت کرلے کراچی کو درست نہیں کرسکتی، کیونکہ اس کے پاس اہلیت ہے، اور نہ کام کرنے کی نیت،

انہوں نے کہا کہ مرتضی وہاب کو نادیدہ قوتوں نے کراچی پر زبردستی مسلط کرکے کراچی کے عوام کو نہ صرف ان کی جائز اورحقیقی نمائندگی سے محروم کردیا بلکہ ایک ایسے فرد کے ہاتھوں میں کراچی کے امور سپرد کردیے کہ جس نے بلدیہ کے تمام معاملات چند افسران کے ہاتھوں میں دے دیے ہیں جو کراچی کے وسائل کو بے دردری سے برباد کررہے ہیں۔

سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایک جانب مرتضی وہاب پارٹی چیئرمین کی خوشنودی حاصل کرنے میں مصروف ہیں اور انہیں کراچی کے عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں تو دوسری جانب کراچی کی تباہی کے دوسرے ذمہ دار وزیر بلدیات ہیں،جن کی کل کائنات پانچ یوسیز پر مشتمل ان کا صوبائی اسمبلی کاحلقہ ہے،اورصورتحال وہاں بھی خراب ہے،وزیر بلدیات کراچی میں تعصب برت رہے ہیں، اور شہر کے زیادہ تر ٹاؤنز اور یونین کمیٹیز میں کاموں میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، ان کا مدعا صرف اور صرف ٹاؤن اور یوسیز میں اپنے من پسند افراد کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ رہ گیا ہے

کے ایم سی میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کیہ کراچی کی بدترین صورتحال کاعکاس چنیسر ٹاؤن ہے،جہاں ان کے بھائی دھاندلی کے ذریعے چیئر مین تو بن گئے ہیں لیکن ٹاؤن گندگی کا ڈھیر اور سڑکیں کھنڈر بن گئی ہیں، اس تمام صورتحال میں زیادہ دیر خاموش نہیں رہا جاسکتا، اور جماعت اسلامی اس پر اپنا لائحہ عمل تیار کررہی ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں