کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کراچی کے مختلف علاقوں کا پانچ گھنٹے طویل دورہ، انفرا اسٹرکچر اور توانائی کے تقریباً چھ ارب روپے کے منصوبوں کا افتتاح کردیا۔ کہتے ہیں منصوبوں سے شہیر میں تفریحی سہولیات، روڈ انفرا اسٹرکچر اور توانائی کے شعبے میں بہتری آئے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ صوبائی وزرا شرجیل انعام میمن، ناصر حسین شاہ، سعید غنی، حاجی علی حسن زرداری اور وقار مہدی بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے دورے کےدوران دو روڈ منصوبوں، دو شمسی توانائی کے منصوبوں اور ایم این اے اسد عالم نیازی، سعید غنی اور ڈپٹی اسپیکر انتھنی نوید کے حلقے منظور کالونی میں فٹبال گراؤنڈ کا افتتاح کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ضلع غربی اور وسطی میں سڑکوں کی تعمیر نو کے تین اہم منصوبوں کا افتتاح کیا۔ 1.6 کلومیٹر طویل دو رویہ مرزا آدم روڈ 90 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا۔ یہ سڑک شیرشاہ کو مرزا آدم روڈ سے جوڑتی ہے۔ سڑک کے کناروں پر سیلابی پانی کی نکاسی کے نالے بھی بنائے گئے ہیں۔
چار کلومیٹر طویل کیفے پیالہ روڈ سخی حسن سے راشد منہاس روڈ تک بنائی گئی ہے۔ منصوبے پر نوے کروڑ 15 لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔ منصوبے سے کارڈیو اسپتال اور مام جی اسپتال تک رسائی آسان ہوجائے گی۔
ایک اور اہم منصوبے شاہراہ نورجہاں کا بھی افتتاح کیا گیا ۔ چھ کلومیٹر طویل دو رویہ سڑک کے علاوہ 4.35 کلومیٹر طویل سروس روڈ بھی بنائی گئی ہے۔ منصوبے پر 3 ارب 36کروڑ اور 77 لاکھ روپے لاگت آئی ہے۔ منصوبے سے نارتھ ناظم آباد اور نارتھ کراچی کے درمیان ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی۔ شاہراہ شیرشاہ سوری کا متبادل راستہ بھی ہوگا۔
سستی توانائی کی جانب اہم قدم بڑھاتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال اوجھا کیمپس اور سینٹرل جیل کراچی کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبوں کا افتتاح کیا۔ 29 کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والے منصوبے سے اوجھا کیمپس کو 2.32 میگاواٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے۔ منصوبے سے آئندہ پچیس سال تک صوبائی خزانے کو بڑی بچت ہوگی۔ اس منصوبے کے تحت اسپتال کی 12 اہم عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا ہے جس میں آپریشن وارڈ، ڈیجیٹل لائبریری بھی شامل ہیں۔
اسی طرح سینٹرل جیل کراچی میں شمسی توانائی کا 614.8 میگاواٹ کا منصوبہ بنایا گیا ہے جو اضافی بجلی کے الیکٹرک کو فروخت کرےگا۔ منصوبے پر 21 کروڑ 60 لاکھ روپے لاگت آئے گی۔ منصوبہ اپنی لاگت تین سال میں وصول کرلے گا اور صوبائی خزانے کو سالانہ 6 کروڑ 42 لاکھ اور 60 ہزار روپے کی بچت ہوگی۔
انفرا اسٹرکچر اور قابل تجدید توانائی کے منصوبے حکومت سندھ کے کراچی کے عوام کو طویل مدتی سہولیات کی فراہمی کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
ضلع شرقی کے علاقے منظور کالونی میں ایک اور اہم منصوبے کا افتتاح کیا گیا۔ شاہین فٹبال گراؤنڈ اور پارک کی بحالی پر 21 کروڑ 30 لاکھ روپے لاگت آئی ہے، مںصوبہ23-2022 کے کلک پروگرام کا حصہ ہے۔
فٹبال گراؤنڈ ساڑھے پانچ ایکڑ پر پھیلا ہے۔ تماشائیوں کےلیے 400 نشستیں بنائی گئی ہیں۔ جدید سہولیات سے آراستہ کلب ہاؤس اور کھیل کا میدان تیار کیے گئے ہیں۔ قریب ہی تقریباً ڈھائی ایکڑ پر پھیلے فیملی پارک میں واک ٹریک، بچوں کے کھیلنے کا ایریا اور لوگوں کےلیے جدید سہولیات دی گئی ہیں۔ نئی سڑک اور باؤنڈری وال بھی بنائی گئی ہیں۔
منظور کالونی مین فٹبال گراؤنڈ کی افتتاحی تقریب جلسہ عام میں بدل گئی جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے 400 میگاواٹ کے شمسی توانائی کے منصوبے کا آغاز کیا ہے، کراچی میں اس منصوبے پر کافی پیش رفت بھی ہوچکی ہے مانجھند میں این ٹی ڈی سی کی وجہ سے مشکلات ہیں تاہم ہم ان پر انحصار نہیں کریں گے اور بجلی کی ترسیل کےلیے اپنی لائن بچھائیں گے۔
مراد علی شاہ نے مزید بتایا کہ سولرائزیشن کے پہلے مرحلے میں 50 سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کردیا گیا ہے دوسرے مرحلے میں آج ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال اوجھا کیمپس اور سینٹرل جیل کراچی کی عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا ہے۔ دونوں منصوبے اپنی لاگت دو سال کے اندر ہی نکال لیں گے۔ حکومت نے 2 لاکھ گھرانوں کو سولر سسٹم فراہم کرنے کے منصوبے کا بھی آغاز کیا ہے اور کینجھر جھیل پر 400 میگاواٹ کے شمسی توانائی کے ایک اور منصوبے پر بھی کام ہو رہا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم تھر کے کوئلے سے پاکستان کی سب سے سستی بجلی پیدا کر رہے ہیں، چھور کے مقام پر ریلوے لائن بچھا کر ملک کے دیگر پاور پلانٹس کو بھی کوئلہ فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ بھی سستی بجلی پیدا کرسکیں۔
26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کا کریڈٹ چیئرمین بلاول بحٹو زرداری کو دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ جس طرح انہوں نے قائدانہ کردارادا کیا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب بلاول بھٹو زرداری ملک کے وزیراعظم ہوں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خود کو عظیم رہنما ثابت کیا ہے۔ انہوں نے عدالتی اصلاحات کےلیے سب سے بات کی اور ترمیم کو ممکن بنایا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ایک جج کے ریمارکس کا حوالہ دیا کہ انہوں نے کہا کہ سندھ کے علاوہ ہر جگہ امن و امان کی صورتحال درست ہے۔ مراد علی شاہ نے تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ نام نہیں لے رہے لیکن باقی صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے۔
اس موقع پر صوبائی وزرا ناصر شاہ، سعید غنی، ڈپی اسپیکر سندھ اسمبلی انتھونی نوید اور پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری جنرل وقار مہدی نے بھی جلسے سے خطاب کیا۔
